شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ٹھٹہ، بدین اور سجاول سے انخلا کا سلسلہ جاری، تینوں اضلاع میں 37 ریلیف کیمپ بھی قائم

کراچی(پی پی آ ئی)صوبائی وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ساحلی پٹی سے لوگوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے اور طوفان سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے 74343 افراد میں سے بدھ کی صبح تک 64107 افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ صوبائی وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ان افراد کا تعلق ٹھٹہ، بدین اور سجاول کے اضلاع سے ہے جبکہ ان اضلاع میں انخلا کا سلسلہ جاری ہے اور باقی 10236 افراد کو بھی جلد محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ ان تینوں اضلاع میں مجموعی طور پر 37 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 64 ہزار افراد میں سے 44 ہزار کے قریب افراد کو حکومت کی جانب سے قائم کردہ کیمپوں یا عمارتوں میں رکھا گیا ہے جبکہ 20 ہزار افراد رضاکارانہ طور پر خود منتقل ہوئے ہیں۔شرجیل میمن کے مطابق کیٹی بندر سے، جہاں پاکستان میں طوفان کے ٹکرانے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے، تین ہزار افراد کو نکالا گیا ہے جبکہ تحصیل گھوڑا باری سے 1500، تحصیل شہید فاضل راہو سے 19038، تحصیل بدین سے 12300 اور سجاول شاہ بندر سے 8300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔اس کے علاوہ تحصیل شہید فاضل راہو سے 5160 جبکہ تحصیل بدین سے 5600 افراد رضاکارانہ طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔