شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بلوچستان کے سمندری طوفان کے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ نہیں: پی ڈی ایم اے

کوئٹہ(پی پی آ ئی)بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل جہانزیب خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کی حد تک سمندری طوفان سے بہت زیادہ خطرہ نہیں ہے جس کے باعث اب تک یہاں کسی علاقے سے آبادی کا انخلا نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ سمندری طوفان سے خطرہ زیادہ نہیں ہے تاہم دونوں ساحلی اضلاع حب اور گوادرمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں موجود ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ضلع گوادر میں اورماڑہ اور سربندر میں پانی زیادہ ہے لیکن ہوا بند ہونے سے وہاں بھی بہت زیادہ خطرہ نہیں ہے۔ادھر ضلع گوادر کے علاقے اورماڑہ میں بدھ کی صبح ایک مرتبہ پھر سمندری پانی داخل ہوا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر پسنی کے مطابق پانی فش فیکٹری کے علاقے میں داخل ہوا تاہم وہاں لوگوں کے مکانات نہیں ہیں۔انھوں نے بتایا کہ اورماڑہ میں جن علاقوں کو زیادہ خطرہ ہے ان میں اڈ گور، طاق اور بل شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اورماڑہ میں خطرات کے باعث مختلف علاقوں میں کیمپ قائم کیے گئے ہیں لیکن ابھی تک اورماڑہ سے آبادی کا انخلا نہیں ہوا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر پسنی کے مطابق پاکستانی بحریہ کی مدد سے اورماڑہ میں ماہی گیروں کی ڈیڑھ سو کشتیوں کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پسنی میں کلمت کے علاقے کو خطرہ ہے جس کی آبادی سات سو نفوس پر مشتمل ہے اور خطرہ بہت زیادہ بڑھ جانے کی صورت میں کلمت سے آبادی کے انخلا کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔