سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف درخواستیں، لارجر بنچ پھر ٹوٹ گیا

اسلام آباد (پی پی آئی) سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کا لارجر بنچ ایک بار پھر ٹوٹ گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو 7 رکنی بنچ سے الگ کر لیا۔ پی پی آئی کے مطابق چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 7 رکنی بنچ نے درخواستوں پر سماعت کا آغاز کیا، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنچ کا حصہ تھے۔ سماعت کے آغاز پر وفاقی حکومت نے جسٹس منصور علی شاہ کے بنچ میں شامل ہونے پر اعتراض اٹھا دیا، اٹارنی جنرل نے روسٹروم پر آ کر بنچ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی ہدایات سے عدالت کو آگاہ کیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک درخواست گزار جسٹس منصور علی شاہ کے رشتہ دار ہیں، اس لئے ان کے کندکٹ پر اثر پڑ سکتا ہے۔پی پی آئی کے مطابقچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی خواہش پر بنچ نہیں بن سکتے، آپ کس بات پر اس عدالت کے معزز جج پر اعتراض اٹھا رہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میرا ذاتی طور پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ میں نے تو پہلے ہی دن آ کر کہا تھا کسی کو کوئی اعتراض ہے تو بتا دیں۔دریں اثنا جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو 7 رکنی بنچ سے الگ کر لیا، جس کے نتیجے میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کیلئے تشکیل کردہ 9 رکنی لارجر بنچ ٹوٹنے کے بعد 7 رکنی بنچ بھی ٹوٹ گیا۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ مفادات کے ٹکراؤ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں، آپ ایک بہت اچھے کردار اور اچھی ساکھ کے مالک وکیل ہیں، ایک پوری سیریز ہے جس میں بنچ پر بار بار اعتراض اٹھایا جا رہا ہے، پہلے یہ بحث رہی کہ پنجاب الیکشن کا فیصلہ 3 ججوں کا تھا یا 4 کا، جواد ایس خواجہ صاحب ایک درویش انسان ہیں، آپ ایک مرتبہ پھر بنچ کو متنازع بنا رہے ہیں۔دوران سماعت شعیب شاہین نے کہا کہ یہ کسی کا ذاتی کیس نہیں یہ بنیادی حقوق کا کیس ہے جبکہ حامد خان نے ججز سے کیس سننے کی استدعا کی۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ سمجھنے کی کوشش کریں، یہ ججز کا اپنا فیصلہ ہے، میں یہ کیس نہیں سن سکتا۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔پی پی آئی کے مطابقجسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ میں اپنا کنڈکٹ اچھی طرح جانتا ہوں، کوئی ایک انگلی بھی اٹھا دے میں پھر کبھی اس بنچ کا حصہ نہیں رہتا۔حامد خان نے کہا کہ اس موقع پر اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب معزز جج خود ہی معذرت کر چکے ہیں۔دریں اثناعدالتی عملے کی جانب سے فریقین کیلئے جاری ہدایت میں کہا گیا کہ 11 بجے بنچ دوبارہ آئے گا، چیف جسٹس نیا بنچ تشکیل دیں گے۔