متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

’قابل اعتراض مواد‘ کے باعث پنجاب میں ’باربی’کی ریلیز مؤخر

لاہور (پی پی آئی)’قابل اعتراض مواد‘ کی وجہ سے ہالی وڈ فلم ’باربی‘ کی صوبہ پنجاب میں ریلیز مؤخر کر دی گئی ہے۔ پنجاب فلم سینسر بورڈ ک ’فلم کا مکمل جائزہ لے گا جس کے بعد جہاں ضروری ہوگا اسے سنسر کردیا جائے گا۔پی پی آئی کے مطابقہالی کی نئی فلم ’باربی‘ 21 جولائی کو دنیا بھر کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی، فلم میں مشہور باربی گڑیا کا کردار ہولی وڈ اسٹار مارگٹ روبی ادا کررہی ہیں اور باربی کے بوائے فرینڈ ’کین‘ کا کردار رائن گوسلنگ ادا کر رہے ہیں تاہم سنسر بورڈ نے فلم میں ’قابل اعتراض‘ مواد کی وضاحت نہیں کی۔البتہ سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ فلم میں ممکنہ طور پر ہم جنس پرستی اور ٹرانسجینڈرز کو فروغ دینے یا ان کے حقوق کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔فلم کو 21 جولائی کو اسلام آباد اور سندھ کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کردیا گیا تھا، جہاں اسے متعلقہ سنسر بورڈز نے کلیئر کر دیا تھا۔یہ پہلی بار نہیں کہ بورڈ کی جانب سے کسی فلم پر پابندی لگائی گئی ہو اس سے قبل کانز ایوارڈ یافتہ اور آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کی گئی پاکستانی فلم جوائے لینڈ پر بھی حکومت نے ’معاشرتی اقدار کے خلاف‘ قرار دے کر پابندی لگا دی تھی۔بعدازاں فلم کو حکومت نے جائزے کے بعد کلئیر قرار دیا گیا تھا، اس کے باوجود پنجاب سینسر بورڈ نے اس پر پابندی برقرار رکھی تھی۔2019 میں فلم ’زندگی تماشا‘ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی جب اس فلم کے ڈائریکٹر پر ایک انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعت کی طرف سے فلم میں ا توہین مذہب کا الزام لگایا گیا تھا۔