شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ریٹائرسرکاری ملازمین اور بیواؤں کو کوبینوولنٹ فنڈ کی ادائیگی طوالت کا شکار

کراچی (پی پی آئی) سندھ میں معذوری کے باعث ریٹائرسرکاری ملازمین اور دوران ڈیوٹی وفات پاجانے والے ملازموں کوبینوولنٹ فنڈ کی ادائیگی تاخیر اور طوالت کا شکارہے،ہر ماہ تنخواہ یاپنشن کی طرح بذریعہ بنک ادائیگی نہیں ہوتی بلکہ ڈپٹی کمشنر آفس بلواکر بذریعہ چیک ادائیگی کی جاتی ہے اور بایو میٹرک سسٹم اپنانے کی بجائے لائف سرٹیفکٹ مانگا جاتاہے نیزبینوولنٹ فنڈ کئی کئی ماہ بسا اوقات تو سال سال بھر بعد  ادا کیا جاتا ہے حالانکہ حاضر ڈیوٹی سرکاری ملازموں کی تنخواہ سے کٹوتی ہرمہینے ان کی تنخواہ سے ہو تی ہے کی جاتی ہے۔پی پی آئی کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کے پنشن کی بروقت وصولی تاخیر اور طوالت کا شکار ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں کافی عرصے سے اس بات پر زور دیتی رہی ہیں کہ ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کو جلد از جلد پنشن ملنا شروع ہو جائے جبکہ پنجاب حکومت نے تو یہ اعلان بھی کیا تھا کہ جب تک پنشن شروع نہ ہو جائے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو 60فیصد پنشن ملتی رہی لیکن ایسا کہیں بھی  نہیں ہورہا۔  متعلقہ محکمے اور اے جی آفس  پنشن کیس تیار کرنے میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں اور ریٹائر ہونے والے بہت سے ملازموں کو کو کئی کئی ماہ پنشن نہیں ملتی۔