اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

’کے ٹو‘ پر پھنسے پاکستانی شیرپا کی مدد نہ کرنے والی خاتون کوہ پیما تنقید کی زد

 اسلام آباد (پی پی آئی) دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں سرکرنے والی نارویجن کوہ پیما کرسٹن ہریلا پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ انہوں نے ’کے ٹو ’سر کرنے کی مہم کے دوران زخمی پاکستانی شیرپا کی مدد نہیں کی اور ان کے پاس سے گزر گئیں۔پی پی آئی کے مطابق  سوشل میڈیا پر نارویجن کوہ پیما کو تنقید کا سامنا ہے، تاہم کرسٹن ہریلا نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ ان کی ٹیم نے حسن کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔  واضح رہے کہ شیرپا ہمالیہ کے علاقوں میں رہتے ہیں  اور دنیا بھر سے آنے والے ان کوہ پیماؤں کی مدد کرتے ہیں جو  ماؤنٹ ایورسٹ سمیت دیگر پہاڑوں کو سرکرنے کی کوشش کرتے ہیں،چونکہ وہ پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں اسی لیے انہیں کوہ پیما بھی کہا جاتا ہے۔ حاکرسٹن ہریلا نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم نے 27 سالہ پاکستانی شیرپا محمد حسن کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی تھی۔