عالمی و ملکی گولڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ، سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان آرمی ٹیم کو بین الاقوامی پیس اسٹیکنگ کی فتح پر گورنر سندھ کی مبارک باد

بجٹ 2026-27 مایوس کن، کمرشل امپورٹرز کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، پی سی ڈی ایم اے

گورنر ہاو س میں عالمی یومِ ماحولیات شجرکاری مہم کا آغاز ،ہر شہری کم از کم ایک پودا لگائے:گورنر سندھ کی اپیل

ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی پرشدید پانی کی شدید قلت کیخلاف کسانوں کا احتجاج

کراچی بھینس کالونی میں مردہ جانوروں کی ہڈیوں اور چربی سے غیر معیاری تیل تیار کرنے والی غیر قانونی فیکٹری سربہ مہر

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سلمان خان اور انکی بہنیں بھی باقاعدگی سے میرا بیان سنتی ہیں، مولانا طارق جمیل کا دعویٰ

کراچی (پی پی آئی)معروف اسلامک اسکالر مولانا طارق جمیل نے دعویٰ کیا کہ سلمان خان اور انکی بہنیں  باقاعدگی سے میرا بیان سنتی ہیں، وہ بالی وڈ اسٹار عامر خان سے بھی ملاقات کرچکے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بالی وڈ ’مسٹر پرفیکشنسٹ‘ عامر خان سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا تھا کہ شروع میں انہوں نے بھارتی اداکار سے فلموں کی باتیں کیں، جس پر اداکار حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے عامر خان کو پرانے بالی وڈ سے متعلق وہ باتیں بتائیں جو وہ خود بھی نہیں جانتے تھے، جس کے بعد اداکار پرسکون ہوگئے اور ان سے ملاقات کا دورانیہ بڑھا دیا۔مولانا طارق جمیل کے مطابق دورانیہ بڑھنے کے بعد انہوں نے عامر خان کو حج کرنے کا کہا اور انہیں حج کی فضیلت بتائی۔ حال ہی میں مولانا طارق جمیل نے یوٹیوبر نادر علی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ سلمان خان اپنے گھر میں ان کا بیان سنتے ہیں۔پوڈکاسٹ کے دوران نادر علی نے سوال پوچھا کہ ’آپ نے مجھے کہا تھا کہ بالی وڈ اداکار عامر خان نے مجھے بتایا کہ سلمان خان کے گھر بھی بیان چلتے ہیں، کیا ا?پ کو یادہے؟‘۔جس پر مولانا طارق جمیل نے کہا کہ ’عامر خان نہیں بلکہ میرے ایک دوست ہیں جن کا کاروبار بھارت میں بھی ہے، وہ ممبئی گئے تو ان کے پارٹنر نے ان کی ملاقات سلمان خان سے کروائی۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’سلمان خان کو جب معلوم ہوا کہ میرے دوست پاکستان سے ممبئی آئے ہیں تو انہوں نے میرے دوست سے دریافت کیا کہ کیا آپ مولانا طارق جمیل کو جانتے ہیں؟ جس پر میرے دوست نے کہا کہ آپ کو ان کا کیسے پتا؟ اس پر سلمان خان میرے دوست کو اپنے گھر کے اندر لے گئے جہاں ایک دیوار کے ساتھ میرے بیان کی ڈھیروں سی ڈیز موجود تھیں‘۔