سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

دادو پولیس کا تہرے قتل کے ملزمان کی گرفتاری سے انکار

کراچی (پی پی آئی) دادو میں قتل کئے گئے تین افراد غلام سرور چانڈیو و دیگر کے ورثاء نے کراچی میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان تینوں افراد کو سابق وزیر نواب نادر مگسی کے ایماء پر قتل کیا گیا ہے۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقتولین کے ورثاء نیاز حسین و دیگر نے کہا ک بااثر افراد کے دباؤ پر مقامی پولیس بھی اصل قاتلوں کو گرفتار کرنے سے ہچکچا رہی ہے اور ورثاء حصول انصاف میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور قاتلوں کی جانب سے دھمکیاں ملنے پر خوفزدہ ہیں ہم پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ کیس کی پیروی نہ کی جائے۔نیاز چن نے بتایا کہ پانچ سالوں کے ہمارے گھر کے تین افراد کو قتل کیا جاچکاہے 2017 میں ہمارے دو افراد جبکہ 25 ستمبر 2023 کو ہمارے 50 سالہ بزرگ غلام سرور چانڈیوولد غلام محمد چانڈیو کو قتل کردیا گیا پولیس با اثر شخصیات کے کہنے پرملزمان کو گرفتار نہیں کررہی۔ انہوں نے نگراں وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی دادو، سے اپیل کی کہ ہماری مدعیت میں FIR درج کی جائے اور کیس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کراکے ملزمان کو سزائیں دی جائیں اور ہمیں انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام قتل سابق وزیر نادر مگسی ولد سیف اللہ مگسی کے کہنے پر کئے گئے ہیں۔25 ستمبر 2023کو ہمارے 50 سالہ بزرگ غلام سرور چانڈیو ولد غلام محمد چانڈیو کو جو گھر کا سامان لے کر واپس گھر آرہے تھے کہ مہر کے قریب تھانہ بی سیکشن کی حدود میں بیٹو جتوئی روڈ پر پیٹیجے موری آم کے باغات کے مقام پر گھات لگائے بیٹھے تین مسلح افراد نے فائرنگ کرکے انہیں قتل کردیا مقدمہ درج کرانے کیلئے ہم نے مہر تھانہ کے سامنے لاش رکھ کر کئی گھنٹے تک احتجاج کیا لیکن پولیس نے ہماری مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کے بجائے اپنی مدعیت میں درج کرلیا اصل ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے ہم نے مختلف فورم پر احتجاج کیا انصاف اور تحفظ کیلئے آواز اٹھائی لیکن نادر مگسی کے کہنے اور دباؤ میں پولیس ملزمان کو بچانے میں لگی ہوئی ہے اس سے قبل 2017میں بھی ہمارے دو افراد قتل کیئے گئے تھے اسکی بھی FIRدرج ہوئی اور اس میں ایک ملزم بھی گرفتار ہوا تھا لیکن نادر مگسی نے کیس کو کورٹ تک جانے ہی نہیں دیا اور ملزم کو تھانے سے ہی کلیئر کراکے اپنے ہمراہ لے گیا تھا نیاز چن اور ان کے ساتھ موجود خواتین ریشماں، صائمہ نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانبداری کے باعث ہمارے اہل خانہ کے جان و مال محفوظ نہیں ہم عدم تحفظ کا شکار ہیں ہماری چیف جسٹس آف پاکستان، نگراں وزیر اعظم، نگراں وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی دادو، ایس ایس پی دادو سے اپیل ہے کہ ہماری جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جائے ہماری مدعیت میں FIR درج کرتے ہوئے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے اور اصل ملزمان نادر مگسی ولد سیف اللہ مگسی، علی مردان عرف جبل مگسی، انور مگسی ولد غلام مگسی اور سکندر مگسی ولد قربان مگسی پر مقدمہ درج کیا جائے، غیر جانبدار ایجنسی سے کیس کی تحقیقات کرائی جائے اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لاکر ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔