اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

صحافیوں کے تحفظ کیلئے قوانین کی منظوری کے باوجود صورتحال مزید بدتر

اسلام آباد (پی پی آئی)ملک میں گزشتہ 2 برس کے دوران 11 صحافیوں کو قتل کیا گیا اور 2023 میں پاکستان ’ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس‘ میں 180 ریاستوں میں سے 150 نمبر پر رہا، ستم۔پی پی آئی کے مطابق فریڈم نیٹ ورک کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے قانون سازی میں دنیا کا پہلا ملک بننے کے 2 برس بعد بعد بھی پاکستان صحافیوں کے خلاف جرائم میں اضافے سے نمٹنے کے لیے قانون کے استعمال میں تاحال ناکام ہے۔’دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ‘ قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر اْس وقت منظور کیا تھا جب عمران خان 2021 میں وزیراعظم تھے، تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں برطرف کرنے کے بعد شہباز شریف 2022 میں وزیراعظم بن گئے تھے۔تاہم عمران خان اور شہباز شریف، دونوں کی حکومتیں اس قانون کے تحت ایک سیفٹی کمیشن قائم کرنے میں ناکام رہیں اور اسلام آباد صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک شہر بن گیا۔ قومی اسمبلی نے ’پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021‘  منظور کیا، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان نے ایسا کوئی قانون نہیں بنایا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے خلاف اگست 2021 سے اگست 2023 کے درمیان کْل 248 میں سے 93 (37.5 فیصد) واقعات اسلام آباد میں ریکارڈ کیے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ صحافیوں کے خلاف واقعات میں سندھ 56 کیسز (22.5 فیصد) کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا،۔صحافیوں کے تحفظ کے لیے قوانین کی منظوری سے قبل’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈر’کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2021 میں پاکستان 180 ممالک میں 157 ویں نمبر پر تھا، اِن 2 قوانین کی منظوری کی وجہ سے 2023 میں پاکستان کی رینکنگ بہتر ہوکر 150 پر آگئی تھی لیکن بدقسمتی سے اس کے بعد صورتحال مزید بدتر ہوگئی۔