جےیوآئی کے رہنماء پرفیسر زبیر عباسی کے والد انتقال کر گئے ،فضل الرحمن کا اظہار افسوس

پشتونوں کی بدقسمتی کہ انہوں نے کرپشن کرنے والوں کو اسمبلیوں میں بھیجا:عوامی نیشنل پارٹی

ایڈیشنل آئی جی کراچی سے سرجانی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ کے وفد کی ملاقات

گورنر سندھ سے آئی سی ایم اے کے وفد کی ملاقات، مالی شفافیت اور معیاری پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ پر زور

پاکستان پائیدار سرمایہ کاری کی مارکیٹ میں داخل؛ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک متعارف

این ای ڈی یونیورسٹی میں سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 کراچی بندرگاہ پر کھڑے ہزاروں کنٹینرز چھوڑے جائیں:افغانستان کا پاکستان سے مطالبہ

کابل(پی پی آئی(افغانستان کے عبوری وزیر تجارت نورالدین عزیزی نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ درآمدی سامان سے لدے ہزاروں کنٹینرز کو جانے کی اجازت دے جو کہ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کارگو پر پابندی کے بعد سے کراچی پورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ٹیکسز کی مد میں لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے کیونکہ سامان اس کی بندرگاہوں سے خشکی سے گھرے ملک افغانستان میں ڈیوٹی فری بھیجا جارہا ہے اور پھر سرحد پار واپس اسمگل کیا جاتا ہے۔افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مزید ٹیکس اور ڈیوٹی کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کراچی پورٹ پر افغانستان بھیجے جانے والے 3 ہزار سے زائد کنٹینرز کو روک رکھا ہے جس سے تاجروں کو لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ان کنٹینرز میں اعلیٰ معیار کا الیکٹرانکس سامان، مشینی پرزے، کیمیکلز اور ٹیکسٹائل کی اشیا موجود ہیں، یہ سب چیزیں اگر پاکستان میں درآمد کی جائیں تو ان پر بھاری محصولات عائد ہوتے ہیں۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان بھیجے جانے والے اس سامان کی مقدار میں گزشتہ 2 برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے اور وہاں کی مارکیٹ کے حجم کو دیکھتے ہوئے یہ غیرحقیقی معلوم ہوتا ہے۔پشاور میں افغان قونصل خانے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کراچی پورٹ پر سیکڑوں کنٹینرز کئی ماہ سے کھڑے ہیں، کچھ کنٹینرز کو ایک سال سے زائد عرصے سے روک رکھا ہے، اندر کا سامان خراب ہو رہا ہے اور تاجروں کو نقصان ہو رہا ہے۔