متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

لاہور ہائیکورٹ نے جسمانی ریمانڈ دینے کے نئے اصول وضع کر دیے

لاہور(پی پی آئی)لاہور ہائی کورٹ نے جسمانی ریمانڈ کے نئے اصول وضع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کے جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت کا مطمئن ہونا ضروری ہے ملزم کو جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کا بھرپور موقع دیا جائے اور بیان ریکارڈ پر لایا جائے۔پی پی آئی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے  ملزم منشا بم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔جسٹس علی ضیاباجوہ اور جسٹس شہرام سرورنے کہا  کہ اے ٹی سی جج نے بغیر حقائق جانے 4 مرتبہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی، بظاہر لگتا ہے کہ اے ٹی سی جج نے بغیر کیس ڈائری دیکھے لاپرواہی میں جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی، ملزم منشا بم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جسمانی ریمانڈ کیلئے ملزم کا کمرہ عدالت میں موجود ہونا ضروری ہے، پیشی کے بغیر جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جاسکتا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسر جسمانی ریمانڈ میں توسیع مانگیں تو دیکھا جائے گزشتہ ریمانڈ پر کیا تفتیش ہوئی، ملزم کو جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کا بھرپور موقع دیا جائے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل کے مطابق دہشتگری عدالت کے جج کو ریمانڈ کے لیے وجوہات بتانا ضروری نہیں، ڈپٹی پراسکیوٹر کا یہ بیان انتہائی غیر مناسب ہے اور قانون کی غلط تشریح ہے۔