اسلام آباد(پی پی آئی) اطلاعات و نشریات کے نگران وزیر مرتضیٰ سولنگی نے صحافیوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد پر زور دیا ہے کہ وہ تہذیب کے دائرے میں رہ کر تنقید کریں اور اداروں کی توہین سے گریز کریں۔انہوں نے اتوار کے روز شام اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اِس تاثر کو مسترد کر دیا کہ حکومت صحافیوں کو ہراساں کرنے کیلئے کوئی مہم چلا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے خلاف مذموم مہم اور ججوں کی کردار کشی کی روک تھام کیلئے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔فاقی وزیر نے کہا کہ اب تک قانون کے مطابق صرف نوٹسز جاری کئے گئے اور کسی شخص کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوا اور نہ کسی کو اٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 600 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفتیش کی گئی جبکہ سو انکوائریاں ہوئیں اور ایک سو دس لوگوں کو نوٹس بھیجے گئے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً بیس سوشل میڈیا اکاؤنٹس سیاسی کارکن یا سیاستدان چلا رہے تھے جبکہ بتیس اکاؤنٹس صحافی چلا رہے تھے۔مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ تنقید کرنے اور کیچڑ اچھالنے اور کردار کشی میں فرق ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ آئین کی شق انیس اظہارِ رائے کی بے لگام آزادی نہیں دیتی اور اس سلسلے میں کچھ پابندیاں ہیں۔سوشل میڈیا پر عدلیہ کو بدنام کرنے کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ چند روز کے دوران جو کچھ ہوا وہ آزادی اظہار کے دائرے میں نہیں آتا۔مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے بعد عدلیہ اور اس کے ججوں کو بدنام کرنے کی مہم میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
Next Post
الیکشن کمیشن کی معلوماتی ایس ایم ایس سروس شروع
Mon Jan 29 , 2024
اسلام آباد (پی پی آئی)عام انتخابات 2024 میں انتخابی فہرستوں سے بذریعہ ایس ایم ایس اپنے ووٹ کے بارے میں معلومات 29 جنوری سے حاصل کی جاسکیں گی۔ پی پی آئی کے مطابق الیکشن کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے 29 جنوری سے عوام الناس کو 8300 […]
