متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سالٹ انڈسٹری سیلز ٹیکس ریفنڈ کے خودکار فاسٹر سسٹم سے خارج،برآمدکنندگان متاثر

کراچی(پی پی آئی)سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایس ایم اے پی) نے سالٹ انڈسٹری کو سیلز ٹیکس ریفنڈ کے خودکار فاسٹر سسٹم سے خارج کرنے اور مینوئل سسٹم میں ڈالنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مینوئل طریقہ کار کے تحت سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمز کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں سالٹ کے برآمدکنندگان کے اربوں روپے پھنس کر رہ گئے ہیں۔ایسوسی ایشن کے چیئرمین قاسم یعقوب پراچہ نے حکومت سے اپیل کی کہ دیگر برآمدی سیکٹرز کی طرح سالٹ انڈسٹری کو بھی فاسٹر سسٹم میں شامل کیا جائے تاکہ برآمدکنندگان کو سیلز ٹیکس ریفنڈز کلیمز کی جلد ادائیگی ممکن ہوسکے۔ پی پی آئی کے مطابق قاسم یعقوب پراچہ نے حکومت سے اپیل میں نشاندہی کی کہ فاسٹر سسٹم نے اگست2023 سے سالٹ انڈسٹری کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمز وصول کرنا بند کردیے ہیں اورسسٹم سیلز ٹیکس رولز کے رول 39 بی کا حوالہ دیتے ہوئے سالٹ انڈسٹری کے برآمدکنندگان کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمز کو قبول نہیں کرتا جس کی وجہ سے برآمدکنندگان مینوئل طریقے سے ریفنڈ کلیمز داخل کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مینوئل طریقہ کار کے تحت جب ریفنڈ کلیمزدائرکیے جاتے ہیں تو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ پہلے فاسٹر سسٹم پر کلیمز دائر کریں اور جب مسترد کا پیغام ملے تو اس کے بعد مینوئل طریقہ کار کے تحت ریفنڈ کلیمزدائر کریں مگر پھر بھی برآمدکنندگان کو ادائیگیاں ممکن نہیں ہوسکیں۔چیئرمین سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کے خودکار فاسٹر سسٹم کو صرف 5 برآمدی سیکٹرز تک محدود کرنا دیگر سیکٹرز کے ساتھ امتیازی سلوک  کے مترادف ہے کیونکہ دیگر سیکٹرز بھی ملکی برآمدات کے فروغ میں اپنا معقول حصہ ڈال رہے ہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ برآمدی سیکٹرز کو یکساں بنیاد پر سہولتیں فراہم کرے