سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں جگنو، تتلیاں اور شہد کی مکھیاں معدوم، زراعت کی تباہی کا خدشہ

کراچی(پی پی آئی)پاکستان  کے شہروں اور دیہات میں جگنو، تتلیاں اور شہد کی مکھیاں معدوم ہوتی جا رہی ہیں جس سے ماحول، زراعت کی تباہی کا خدشہ ہے۔شہد کی مکھی نہ صرف شہد فراہم کرتی ہے بلکہ اسی ننھے کیڑے کے باعث پھول بھی کھلتے ہیں۔ لیکن اب جگنو، تتلیاں اور شہد کی مکھیوں  کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔کیڑے مار ادویات کے استعمال، آلودگی، درختوں اور پودوں کی کمی سے ان ننھے کیڑوں کی نسل بھی تباہ ہورہی ہے۔ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی اور کیڑے مار ادویات کے اسپرے نے خیبرپختونخوا میں شہد کی مکھی کی نسل تقریباً ختم ہی کردی ہے۔مقامی دیسی مکھی ایپس سرانا بڑی پہاڑی مکھی ہے جنہیں ڈبوں میں مگس بانی کے لیے پالا نہیں جا سکتا، وہ بھی ختم ہورہی ہیں۔ مکھی نہ ہونے سے شہد کی پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے۔شہد کی مکھی صرف شہد کی پیداوار کیلئے ہی ضروری نہیں، سائنس دان کہتے یہ مکھی نہ ہوتی تو ہماری زندگی بھی یکسر مختلف ہوتی۔خیبرپختونخوا میں لاکھوں مکھیاں مرنے سے 8 اقسام کا شہد ناپیدہوگیا ہے۔