سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

نگران حکومت نے ایف بی آر کی تنظیم نو کا پلان مؤخر کردیا

اسلام آباد(پی پی آئی)نگران حکومت نے پاکستان میں ٹیکس ریونیو بڑھانے کیلئے ایف بی آر کی تنظیم نو کے پلان پر عمل درآمد کا کام نئی منتخب حکومت پر چھوڑ دیاہے۔پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے زیادہ لیکن رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد صرف 23لاکھ  تک محدود ہے۔ ٹیکس ٹو جی ڈی کی موجودہ شرح 8.5 فیصد جبکہ صلاحیت 22 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق موجودہ 9415 ارب روپے ٹیکس ہدف کے مقابلے میں سالانہ ٹیکس محصولات بآسانی دوگنا کی جا سکتی ہیں۔نگران وفاقی کابینہ نے ایف بی آر کی تنظیم نو اور ڈیجٹلائزیشن کی منظوری تو دیدی ہے تاہم پلان پر عملدرآمد کیلئے نئی حکومت کو وسیع قانون سازی کرنا پڑے گی۔  آنے والی حکومت کو اس میں کچھ قانونی تبدیلیاں کرنا پڑیں گی کچھ رولز چینج کرنا ہوں گے اور ان کو اپنی ترجیح بھی دیکھنا ہوگی۔ کہ وہ کس طریقے سے یہ ٹیکسیشن کے نظام کو بہتر اور مؤثر بنا سکتے ہیں۔ اگر  ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں اضافہ کرنا ہے تو رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور باقی تمام ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔پلان کے تحت وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک وفاقی ٹیکس پالیسی بورڈ قائم کیا جائے گا۔ کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو کے محکموں کو الگ کر کے ان کی نگرانی کیلئے بورڈ قائم کئے جائیں گے، جن میں نجی ماہرین کو بھی شامل کیا جائیگا۔ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے تاجر دوست ایپ متعارف کرائی جائے گی تاہم بعض اقتصادی ماہرین منصوبہ ناقابل عمل قرار دیتے ہیں۔۔