توہینِ رسالت کے ملزم کی درخواست ضمانت منظور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہینِ رسالت کے ملزم زبیر صابری کی درخواست ضمانت 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قانون کی پاسداری نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے لگتا ہے اسلام آباد میں کوئی گھر محفوظ نہیں، بنا وارنٹ پولیس لوگوں کے گھروں کا تقدس کیسے پامال کر سکتی ہے؟ اس موقع پر جسٹس محمد علی باقر نے ریمارکس دیے اور کہا کہ قانون کہہ رہا ہے توہینِ مذیب کیس کی تحقیقات ایس پی کرے گا۔ قانون کے ہوتے ہوئے ماتحت کیسے تحقیقات کرسکتا ہے؟۔ دوران سماعت مدعی کی جانب سے“پیر صاحب، پیر صاحب”لفظ استعمال کرنے پر چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ برہم ہو گئے اور کہا کہ کیا یہ نام قانون میں درج ہے؟  سپریم کورٹ نے توہینِ رسالت کیس کے ملزم کی ضمانت 50 ہزار روپے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ اس کیس کی مزید انکوائری کی جائے۔ توہینِ مذہب کے حساس معاملات کی نگرانی اور تفتیش ایس پی رینک سے کم کا افسر نہیں کرے گا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ایس ایس پی اور ایس پی اسلام آباد پولیس عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ توہینِ مذہب کے کیس کی تفتیش ایس پی نے خود کرنا ہوتی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی پر ایس پی کو معطل کریں یا ایس ایس پی کو؟۔

Next Post

پی ٹی آئی کے اشتہاری رہنماؤں کے گرد گھیرا مزید تنگ،جائیدادیں قرق کرنے کا حکم

Thu Feb 15 , 2024
لاہور(پی پی آئی)پی ٹی آئی کے مفرور رہنماؤں کیخلاف گھیرا مزید تنگ ہونے لگا۔لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اشتہاری ملزمان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں قرق کرنے کا حکم دے دیا۔ پی پی آئی کے مطابق  پی ٹی آئی  سے […]