شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بی جے پی لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے: فاروق عبداللہ

سرینگر(پی پی آئی) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس ہمارے خلاف کچھ بھی ٹھوس نہیں اوروہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ”انڈیا”بلاک جیت کر ابھرے گا اور جو بھی نیا وزیر اعظم بنے گا وہ سب کچھ جو بی جے پی حکومت نے کیا ہے واپس کر دیا جائے گا۔ اگربھارتی  وزیر اعظم مودی ادھم پور میں ریاستی حیثیت کی جلد بحالی کا اعلان کرتے ہیں تو وہ ابھی کیوں نہیں دے سکتے؟وہ اس میں تاخیرکیوں کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ  حزب اختلاف کااتحاد”انڈیا”آئندہ لوک سبھا انتخابات میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تمام چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم انتخابات کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، خاندانوں کے ذریعے نہیں، اگر کوئی صنعت کار اپنے بیٹے کو صنعت کار بناتا ہے تو اسے ووٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں لیکن ہمیں ووٹ مانگ کر منتخب ہونا ہے اور یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ ہمیں مسترد کرتے ہیں یا قبول کرتے ہیں۔دریں اثناء نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے دفعہ370کی منسوخی کے فیصلے کو برقرار رکھنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا اور ان کی پارٹی اسے زندہ رکھے گی۔ یہ حکومت ہمیشہ قائم نہیں رہے گی۔ زمین پر کوئی ایسی طاقت نہیں جو وزیر اعظم مودی کو عہدے پرہمیشہ کے لئے برقرار رکھ سکے۔ہر حکومت کی ایک معینہ مدت ہوتی ہے، کچھ لمبی ہوتی ہیں، کچھ چھوٹی ہوتی ہیں۔ آپ یہ کیوں مانیں گے کہ مستقبل میں کوئی ایسی حکومت نہیں آئے گی جو دفعہ370پر ہم سے بات کرنے کو تیار نہ ہو۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ دفعہ370کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے۔میں یقین کرنا چاہتا ہوں کہ مستقبل میں ایک ایسی حکومت آئے گی جو مقبوضہ جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت کے بنیادی مسئلے پر ہمارے ساتھ بات کرنے میں خوش ہو گی اور جب تک وہ وقت نہیں آتا، ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔