جےیوآئی کے رہنماء پرفیسر زبیر عباسی کے والد انتقال کر گئے ،فضل الرحمن کا اظہار افسوس

پشتونوں کی بدقسمتی کہ انہوں نے کرپشن کرنے والوں کو اسمبلیوں میں بھیجا:عوامی نیشنل پارٹی

ایڈیشنل آئی جی کراچی سے سرجانی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ کے وفد کی ملاقات

گورنر سندھ سے آئی سی ایم اے کے وفد کی ملاقات، مالی شفافیت اور معیاری پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ پر زور

پاکستان پائیدار سرمایہ کاری کی مارکیٹ میں داخل؛ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک متعارف

این ای ڈی یونیورسٹی میں سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بارشوں سے زرعی پیداوار کا ہدف متاثر ہونے کا خدشہ

کراچی(پی پی آئی)حالیہ بارشوں سے نہ صرف زرعی پیداوار کا ہدف متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ ملک کو 2023-24 کے لیے مقرر کردہ 3.5 فیصد زراعت کی ترقی کے ہدف کو پورا کرنے میں چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ بارشوں نے گندم سمیت اہم فصلوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق موجودہ سیزن کے لیے 32.2 ملین ٹن کا گندم کی پیداوار کا ہدف بہت زیادہ خطرے میں ہے، کیونکہ جاری بارشوں نے فصل کی کٹائی میں تاخیر کے ساتھ ساتھ کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے نیزیہ بارشیں ربیع کی دیگر فصلوں پر بھی منفی اثر ڈالیں گی جن میں سرسوں اور کینولا جیسے تیل کے بیجوں کے ساتھ ساتھ چنے کی فصل بھی شامل ہو سکتی ہے، جو پہلے ہی متاثر ہے۔ تاہم بارشوں کے اسپیل سے گنے کی  پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔وفاقی کمیٹی برائے زراعت نے ربیع سیزن 2023-2024 کے لیے 8.9 ملین ہیکٹر اراضی سے گندم کی پیداوار کا ہدف 32.2 ملین ٹن مقرر کیا ہے۔کمیٹی نے ربیع کی دیگر فصلوں کے پیداواری اہداف بھی مقرر کیے جن میں چنے 4.1 ملین ٹن، آلو 60330 ہزار ٹن، پیاز 2494 ہزار ٹن اور ٹماٹر 666 ہزار ٹن ہیں۔ موجودہ اسپیل کا ملک میں آم کی پیداوار پر بھی منفی اثر پڑے گا۔