پاکستان کرکٹ ٹیم کے 2 غیرملکی کوچز کے ناموں کا اعلان

کراچی)پی پی آئی) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر جیسن گلیسپی کو ریڈ بال کا کوچ لا رہے ہیں جبکہ جنوبی افریقا کے گیری کرسٹن وائٹ بال کے کوچ ہوں گے۔ لاہور میں محسن نقوی نے اظہر محمود کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کوچز کا آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں ہمارے پوٹینشل پر اعتماد ہے، اظہر محمود دونوں فارمیٹ کے اسسٹنٹ کوچ ہوں گے، یہ وائٹ بال اور ریڈ بال کرکٹ ٹیموں کو جوڑیں گے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے یہ تینوں تقرریاں 2 سال کی مدت کے لیے کی گئی ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ ہم بہتر کرنے میں کامیاب ہوں گے، اظہر محمود ٹیم کو ایک جگہ پر لائے ہیں، ویمن کرکٹ ٹیم کے کوچ بھی لارہے ہیں، ویمن کرکٹ کو برابری پر اوپر لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کا کام پیسے اکٹھے کر کے بینکوں میں جمع کرنا نہیں، فزیو تھراپسٹ کے لیے ڈیوائسز منگوالی ہیں، اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کا کام تیزی سے جاری ہے، 7 مئی کو ہماری انٹرنیشنل بڈ ہے۔چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ایسی کمپنیاں ہوں گی جو انٹرنیشنل اسٹیڈیمز کا تجربہ رکھتی ہیں، ہم تاخیر کا شکار ہیں لیکن جلد از جلد کام مکمل کریں گے۔ خیال رہے کہ  گیری کرسٹن انڈین پریمیئر لیگ میں اپنی اسائنمنٹ مکمل کرنے کے فوراً بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کی ذمہ داری سنبھالیں گے جس میں  آئندہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 اور دیگر دو طرفہ وائٹ بال سیریز شامل ہیں۔گیری کرسٹن  آئندہ  سال پاکستان میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025، اے سی سی ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2025 اور 2026 میں انڈیا اور سری لنکا میں ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ  میں بھی پاکستان ٹیم کے انچارج ہوں گے۔جیسن گلیسپی اگست میں  آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے سلسلے میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں اپنی ذمہ داری کا آغاز کریں گے۔ جس کے بعد 2024-25کے سیزن میں انگلینڈ کے خلاف اکتوبر میں ہوم سیریز اور دسمبر میں جنوبی افریقہ کے دورے میں وہ ٹیم کے ساتھ ہونگے۔ جیسن گلیسپی  نے کوچ مقرر ہونے کے موقع پر بات کرتے ہوئے  کہا کہ ”میں پی سی بی کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری صلاحیتوں پر بھروسہ کیا اور مجھے کھیل کے روایتی فارمیٹ میں سب سے زیادہ معتبر اور باصلاحیت کرکٹ ٹیموں میں سے ایک کی کوچنگ کا اعزاز دیا۔,پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ  کرنا اس کی بھرپور روایت اور پرجوش مداحوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے  کسی بھی کوچ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔“مجھے ٹیسٹ کرکٹ  سے محبت ہے اور اس پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہونا مجھے بہت پسند ہے, مجھے یہ حقیقت بھی پسند ہے کہ پاکستان میں اتنا ٹیلنٹ ہے, میں یہ  پسند کروں گا کہ میں کھلاڑیوں کی ڈیولپمنٹ میں  مدد کر سکتا ہوں۔ میں ٹیسٹ میچز جیتنا چاہتا ہوں اسی لیے میں یہ ذمہ داری لے رہا ہوں۔ ” انہوں نے کہا کہ مجھے جیتنا پسند ہے اور میں جانتا ہوں کہ اسے عملی شکل دینے کے لیے ہمارے پاس ایسا کرنے کا ہنر موجود ہے،آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ٹیسٹ فارمیٹ میں بہت اہم ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ  ایک بڑا ٹاسک ہے کیونکہ ہمیں فائنل میں جگہ بنانے کے لیے بہت کم وقت میں کئی میچ جیتنے ہوں گے لیکن فائنل میں پہنچنے کی خواہش اور اسے جیتنا ہمارے لیے درمیانے سے طویل مدتی گول ہونا چاہیے،”  یہ سب کچھ  اس اسٹائل  کی کرکٹ کھیلنے کے بارے میں ہے جو ہم کھیلنا چاہتے ہیں جو ہمیں میچ جیتنے میں مدد کرتی ہے  عوام کو پرجوش کرتی ہے اور پاکستان کرکٹ سے جڑے ہر فرد کے چہروں پر مسکراہٹ لاتی ہے۔ ان کا مزید کہناتھا کہ  ”پاکستان میں  بہت سے اعلیٰ معیار کے فاسٹ بولرز ہیں اور ان سے فائدہ  اٹھانا  ہماری کسی بھی کامیابی کا کلیدی حصہ ہوگا تاہم ہمارے پاس تمام شعبوں میں معیار موجود ہے پیس، اسپن، بیٹنگ اور کیپنگ, یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہمارے پاس  ٹیلنٹ ہے اور میں ایسے باصلاحیت کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں،”مجھے اندازہ  ہے کہ  توقعات ہوں گی اور اس کا تعلق آپ کے رول سے ہوتا ہے۔ میں اتنا کر سکتا ہوں کہ میں اسے آگے لے جاؤں اور اگر میں یہ  نہ سوچتا کہ میں اس سے نمٹ سکتا ہوں تو میں اس کام کو شروع نہ کرتا۔” گیری کرسٹن  نے کہا کہ ”وائٹ بال کرکٹ میں پاکستان کی مردوں کی قومی ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داری سنبھالنا اور کچھ عرصے بعد دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ کے میدان میں آنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے, میں اس موقع کا بے تابی سے انتظار کر رہا ہوں اور محدود اوورز کی کرکٹ میں پاکستان کی مردوں کی قومی ٹیم کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ ”کرکٹ کے خوبصورت پہلوؤں میں سے ایک اس کی آفاقیت ہے۔ تمام ثقافتوں میں جب ہم گیم پر بات کرتے ہیں تو ایک مشترکہ سمجھ ہوتی ہے۔ میرا مقصد پاکستان کی مردوں کی وائٹ بال ٹیم کو متحد کرنا، ان کی نمایاں صلاحیتوں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے بروئے کار لانا اور میدان میں مل کر کامیابی حاصل کرنا ہے۔”گیری کرسٹن نے کہا کہ”پاکستان کرکٹ کے بارے میں میرا نقطہ نظر وقت کے ساتھ مستقل رہا ہے, ٹیم سے ہمیشہ ایک  توقع ہوتی ہے کہ وہ اعلیٰ سطح پر مسلسل کارکردگی دکھائے۔ تاہم ٹیم  گیمز  میں  بہترین کارکردگی کو برقرار رکھنے کی ہمیشہ ضمانت نہیں دی جاتی ہے, بطور کوچ ضروری ہوتا ہے کہ آپ  کھلاڑیوں کی ان کی مکمل صلاحیتوں کو سامنے لانے میں ان کی مدد کریں۔ میں بے تابی سے انفرادی کھلاڑیوں اور ٹیم کے ساتھ  کام کرنے کا منتظر ہوں۔”انہوں نے کہا کہ ”عالمی سطح پر کرکٹ کے شائقین کے لیے، پاکستانی کھلاڑی ایک مانوس منظر ہیں  جو مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہیں  کھیلتے دیکھنا واقعی خوشی کی بات ہے۔”ٹیم کی موجودہ حالت کو سمجھنا اور اپنے مطلوبہ اہداف کی طرف راستہ طے کرنا سب سے اہم ہے۔ آئی سی سی ایونٹس جیتنا ہو، یا جون میں ہونے والا ٹورنامنٹ ہو یا مستقبل میں ہونے والے ایونٹس، ان مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنا ایک قابل ذکر کارنامہ ہوگا۔گیری کرسٹن  نے مزید کہا کہ ”میرا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیم اپنی بہترین سطح پر کام کرے, میدان میں کامیابی ٹیم کی بہترین کارکردگی پر منحصر ہے,مستقل مزاجی اور تسلسل وہ اقدار ہیں جو مجھے عزیز ہیں,اگرچہ کھلاڑیوں کی فارم میں اتار چڑھاؤ ناگزیر ہے لیکن ایک مستحکم ماحول کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے, میں جب بھی ممکن ہوا سلیکشن میں تسلسل کو ترجیح دیتے ہوئے کھلاڑیوں کو ان کے اتار چڑھاؤ میں سپورٹ کرنے کے لیے ُپرعزم ہوں۔ خیال رہے کہ 49 سالہ سابق آسٹریلوی  فاسٹ بولر جیسن گلیسپی نے 1996-2006 کے دوران 71 ٹیسٹ، 97 ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلا ہے اور مجموعی طور پر 402 وکٹیں حاصل کیں اور 1,531 رنز بنائے۔ ایک اننگز میں ان کی بہترین بولنگ  جولائی 1997 میں انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلے میں 37 رنز کے عوض 7  وکٹ تھی جبکہ ان کا ٹیسٹ میں بہترین اسکور بنگلہ دیش کے خلاف اپریل 2006 میں چٹوگرام میں تھا جب انہوں نے 201 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ گلیسپی  نے پاکستان کے خلاف چار ٹیسٹ میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کیں، 13 ون ڈے میچوں میں انہوں نے 21 وکٹیں حاصل کی ہیں، وہ جنوبی افریقہ میں آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2003 جیتنے والے آسٹریلوی ٹیم کا حصہ تھے، وہ ای سی بی سے منظور شدہ لیول 4 کے کوچ  ہیں،انہوں  نے یونیورسٹی آف گلوسٹر شائر سے دو سالہ کورس مکمل کیا ہے، وہ  2014 اور 2015 میں لگاتار کاؤنٹی چیمپئن شپ ٹائٹل جیتنے والی یارکشائر کاؤنٹی کے کوچ تھے۔ یارکشائر کے ساتھ اپنے وقت کے دوران انہوں نے انگلینڈ کے اسٹار کرکٹرز جونی بیرسٹو، گیری بیلنس اور جو روٹ کی ڈیولپمنٹ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔گلیسپی نے  2015-2024 تک ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی کوچنگ بھی کی   جس نے  2017-18 کے سیزن میں بی بی ایل ٹائٹل جیتا۔ وہ  سسیکس 2018-2020 اور جنوبی آسٹریلیا 2020-2024 کے کوچ بھی رہے ہیں۔گلیسپی  نے  2010-2012 تک زمبابوے میں کوچنگ کی۔ 2017 میں پاپوا نیو گنی کی قومی کرکٹ ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ کے طور پر دو ماہ تک خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کوالیفائر کی تیاری میں ٹیم کی مدد کی۔دوسری جانب 56 سالہ  جنوبی افریقہ کے سابق ٹاپ آرڈر بیٹرگیری کرسٹن  نے 1993-2004 تک 101 ٹیسٹ اور 185 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے جس میں انہوں نے 34 سنچریوں کے ساتھ مجموعی طور پر 14,087 رنز بنائے،پاکستان کے خلاف 11 ٹیسٹ میں انہوں نے 55.86 کی اوسط سے 838 رنز بنائے۔ 24 ون ڈے میچوں میں انہوں نے 55.47 کی اوسط سے 1,054 رنز اسکور کیے، وہ  آئی سی سی ناک آؤٹ ٹرافی 1998 (جو اب آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے نام سے پہچانی جاتی ہے) جیتنے والی جنوبی افریقہ کی ٹیم کے رکن تھے۔ وہ  1996 سے 2003 تک تین آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کھیلے، 2008سے 2011 تک انڈین ٹیم کی کوچنگ کی اور آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2011 ٹائٹل کے ساتھ ساتھ آئی سی سی  ٹیسٹ ٹیم رینکنگ میں نمبر ایک پوزیشن حاصل کرنے میں ان کی مدد کی۔

وہ  2011 سے 2013تک جنوبی افریقہ کی مردوں کی کرکٹ ٹیم کے کوچ رہے اور انہیں آئی سی ٹیسٹ ٹیم رینکنگ میں نمبر ایک پوزیشن پر لے گئے۔گیری کرسٹن دہلی ڈیئر ڈیولز (اب دہلی کیپٹلز) اور رائل چیلنجرز بنگلور کے کوچ بھی رہے ہیں،اس وقت وہ  گجرات ٹائٹنز کے بیٹنگ کوچ اور  مینٹور ہیں جس نے 2022  میں آئی پی ایل جیتی تھی۔

Latest from Blog