پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 کاروباری افراد،تنخواہ دار طبقہ سے اضافی 650 ارب روپے کی وصولی کا منصوبہ تیار

کراچی(پی پی آئی)آئی ایم ایف کے مطالبے پر پاکستان کے تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس لگانے کی تیاریاں مکمل  ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقے اور کاروباری شخصیات کو انکم ٹیکس کی ایک ہی کیٹیگری میں رکھا جائے۔ جس سے لوئر مڈل کلاس کی قوتِ خرید مزید گھٹے گی۔پی پی آئی کے مطابق تنخواہ دار طبقے کی بلند ترین قابلِ ٹیکس آمدنی کی حد نیچے لائی جارہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ماہانہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے کمانے والوں کو کم و بیش 35 فیصد انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔اس وقت کاروباری شخصیات سے 3 لاکھ 33 ہزار روپے ماہانہ کی بنیاد پر 35 فیصد انکم ٹیکس چارج کیا جارہا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے بلند ترین انکم ٹیکس ماہانہ 5 لاکھ روپے کی حد سے شروع ہوتا ہے۔آئی ایم ایف نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ انکم ٹیکس سے چھوٹ کی حد 50 ہزار روپے ماہانہ رہنے دی جائے، اس میں مزید رعایت نہ دی جائے۔ اس کے نتیجے میں لوئر مڈل کلاس کے وہ لوگ متاثر ہوں گے جن کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہے۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے کاروباری افراد اور تنخواہ دار طبقے سے اضافی 650 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ حکومت اس کے قرضوں کا سود اور اصل کی قسط ادا کرنے کے قابل ہوسکے۔ اس منصوبے کے نتیجے میں کم تنخواہ والے مزید زیرِبار ہوں گے۔