روبوٹکس بینکنگ کسٹمر کے تجربے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار

انشورنس انڈسٹری کا بجٹ مذاکرات میں مالیاتی اصلاحات کے لیے زور

سندھ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امداد کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی

دارالحکومت میں وسیع سرچ آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد

پولیس چیف کی سنگین جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت

اعلیٰ سطحی فلسطینی مذاکرات کے دوران پاکستان کا غزہ پر گہرے دکھ کا اظہار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

403 ملازمین کو احتساب آرڈیننس کے تحت ٹرائل کا سامنا

اسلام آباد(پی پی آئی)کرپشن میں ملوث سرکاری افسران کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔سرکاری دستاویز کے مطابق اس وقت 403 سرکاری ملازمین احتساب آرڈیننس کے تحت ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں،80 سرکاری ملازمین اس وقت نیب انکوائریز بھگت رہے ہیں، 90 سرکاری ملازمین کے کیسز تحقیقات کی سطح پر ہیں۔دستاویز میں مزید یہ بھی بتایا گیا کہ تحقیقات یا ٹرائل کا سامنا کرنے والے سرکاری ملازمین کے نام ظاہر نہیں کئے جا سکتے، کرپشن ثابت ہونے یا پلی بارگین کرنے پر سرکاری ملازمین کو برطرف کر کے 10 سال کے لیے نااہل کر دیا جاتا ہے۔واضح رہے نیب احتساب ایکٹ آئین پاکستان کے آرٹیکل 270AA کے ذریعے کسی بھی سرکاری افسر کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرتا ہے، جس میں کسی بھی سرکاری افسران کے ملوث ہونے اور نہ ہونے کے متعلق رپورٹ یا ریفرنس بناکر احتساب عدالتوں کے سپرد کیا جاتا ہے۔