پشاور(پی پی آئی)عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) نے سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ملکی مسائل اور امن وامان سے متعلق آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا بھی اعلان کردیا۔اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے پشاور میں باچا خان مرکز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر ایک سافٹ مارشل لا نافذ ہے، مجھ سمیت عوامی نیشنل پارٹی اور پوری قوم کی یہ ذمے داری ہے کہ ہم موجود حالات سے نکالیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں سیاست مشکل ہے مگر ہمت نہیں ہاریں گے، ہمیں غلامی قبول نہیں ہے اور ہم ہم پختونستان نہیں بلکہ پاکستان کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اے این پی آخری دم تک 18ویں ترمیم کی حفاظت کے لیے کھڑی ہوگی اور تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر عوام کی فلاح کے لیے کام کریں گے۔۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ، فیض، بانی پی ٹی آئی، محمود خان اور بیرسٹر سیف قوم کے دشمن ہیں، انہی لوگوں نے دہشت گردوں کو واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پر صرف کشمیریوں کا حق ہے اور کشمیر کا فیصلہ مودی، نیازی اور باجوہ نہیں کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ قبلہ اوّل فلسطین پر قبضے کے خلاف ہیں اور ہم فلسطین، افغانستان اور کشمیر پر کسی کا قبضہ نہیں مانتے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام کی حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اْٹھائیں گے اور مطالبہ کیاکہ چین، ایران اور افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے کھول دیے جائیں۔عوامی نیشنل پارٹی نے سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ملکی مسائل اور امن وامان سے متعلق آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا بھی اعلان کردیا۔پریس کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کے ساتھ ساتھ مرکزی سینئر نائب صدر داؤد خان اچکزئی، سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد سلیم خان، صدر اے این پی پختونخوا میاں افتخار حسین اور مرکزی و صوبائی کابینہ کے دیگر ذمہ داران اور اراکین بھی ہمراہ تھے۔
Next Post
زرتاج گل کو گالی کیوں دی؟ طارق بشیر چیمہ کی رکنیت معطل کی جائے:اپوزیشن کا مطالبہ
Thu May 16 , 2024
(24 نیوز) زرتاج گل اور طارق بشیر چیمہ کی لڑائی نے پوری اسمبلی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اپوزیشن نے مسلم لیگ (ق) کے رکن اسمبلی طارق بشیر چیمہ کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلا ت کے مطابق اسمبلی سیشن کے دوران طارق بشیر چیمہ زرتاج گل کے پاس نشت پر گئے،طارق بشیر چیمہ بات کر رہے […]
