ادیب، دانشور اور صحافی عافیہ کی رہائی کیلیے کردار ادا کریں:گلوبل عافیہ موومنٹ

پاکستانی خواتین کو باعزت روزگار اور تحفظ فراہم کیا جائے:پاسبان

بلدیاتی نظام میں ترامیم لا کر ے بلدیاتی نظام کو مفلوج کیا گیا: مئیر تحصیل ایبٹ آباد

نوشہرو فیروز میں گھریلو ناچاقی پر خاتون نے بچے سمیت دریا سندھ میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی

عزاداروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں میئر مئیر میر پور خاص کے دورے

غیر ملکی کرنسی کی شرحوں میں معمولی کمی ، ڈالر انٹربینک ریٹ 278.42 روپے پر بند

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 چین اوربھارت کے بعد اینٹی بائیوٹک استعمال کرنے والاپاکستان تیسرا بڑا ملک قرار

کراچی(پی پی آئی)اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والی انفیکشنز کے نتیجے میں پاکستان میں سالانہ تین لاکھ افراد براہ راست  جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں جبکہ سالانہ 7 لاکھ افراد مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہو کر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس یا اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف بیکٹیریا میں بڑھتی ہوئی مزاحمت، دل کی بیماریوں اور ماں اور بچوں کی ہلاکتوں کے بعد پاکستان میں اموات کا تیسرا بڑا سبب ہے، پاکستان چین اور ہندوستان کے بعد اینٹی بائیوٹک ادویات استعمال کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں صرف 2023 میں 126 ارب روپوں کی اینٹی بائیوٹک ادویات استعمال کی گئیں۔عوام کو چاہیے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات مستند ڈاکٹروں کے مشورے کے بغیر اور خود میڈیکل اسٹور سے خرید کر استعمال نہ کریں۔ان خیالات کا اظہار ماہرین صحت نے اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس کے حوالے سے کانفرنس میں کیا۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر شہزاد علی خان کا کہنا تھا کہ اینٹی بائیوٹکس جادوئی ادویات تھیں جن کی وجہ سے عظیم جنگوں اور عالمی وباؤں کے دوران کروڑوں انسانوں کی جانیں بچائی گئیں لیکن کچھ عرصے سے ان ادویات کا غیر ضروری اور بے تحاشہ استعمال ان ادویات کو غیر موثر بنا رہا ہے۔جس کی بنیادی وجہ ان ادویات کا ٹافیوں کی طرح استعمال ہے، پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ، ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی سمیت نمونیا اور ڈائریا ایسی بیماریاں ہیں جن پر اب تھرڈ اور فورتھ جنریشن اینٹی بائیوٹک ادویات کا اثر نہیں ہو رہا۔قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد کی فوکل پرسن ڈاکٹر آفرینش عامر نے اس موقع پر بتایا کہ پاکستان میں پچھلے سال 126 ارب روپے کی اینٹی بائیوٹک ادویات استعمال کی گئی، ان کا کہنا تھا کہ جانوروں اور پولٹری میں بھی اینٹی باؤٹک ادویات کا بے تحاشہ استعمال کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں بیکٹیریا میں ان ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھتی جا رہی ہے۔ معروف پیڈیاٹریشنپروفیسر ذلفقار بھٹہ نے مشورہ دیا کہ بچوں کو ٹائیفائیڈ کی ویکسین ضرور لگوائیں جو کہ حکومت مفت میں بچوں کو لگا رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ویکسینیشن بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچاتی ہے۔