شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 غزہ میں قتل عام کے ذمہ دار جان نہیں چھڑا سکتے، ہمیشہ بے چین رہیں گے:منیر اکرم

نیویارک(پی پی آئی)پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی قبضے کے خاتمے اور کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرے۔پی پی آئی کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل کی قرارداد 1265 (1999) کی پچیسویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ ”مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ“ کے موضوع پر ایک مباحثے کے دوران جنگوں سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ ان تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا، سیاسی حل کو فروغ دینا، بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کو یقینی بنانا اور جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے استثنا کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل مجرموں کو ہتھیاروں کی فراہمی روک کر جرائم کی ذمہ دار ریاستوں اور افراد کے خلاف کارروائی، مجبور شہریوں کو تحفظ اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرا ئے۔ پاکستانی مندوب نیکہا کہ غزہ میں قتل عام کے ذمہ دار اس کی ذمہ داری سے جان نہیں چھڑا سکیں گے اور یہ انہیں ہمیشہ بے چین رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی طرح بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں کئی دہائیوں سے ظلم و جبر کی مہم جاری ہے جہان تعینات 9 لاکھ بھارتی فوجی مکمل استثنا کے ساتھ جبر و ستم کر رہے ہیں۔منیر اکرم نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو قتل کیا گیا،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم کئے گئے حق خود ارادیت اور آزاد ی کا مطالبہ کرنے والے کشمیری لوگوں اور حریت رہنما?ں کو گرفتار کر کے قید میں رکھا گیا ہے۔دوران حراست متعدد افراد کو مار دیا گیا، وہاں ماورائے عدالت قتل جاری ہیں اور فلسطینیوں کی طرح کشمیریوں کو بھی اجتماعی سزا دی جارہی ہے۔