ساتھی گائیڈنس فورم  کی چلڈرن رائٹرز ورکشاپ،شرکا  میں سرٹیفیکٹ تقسیم

کراچی ((پی پی آئی)بچوں کے لیے لکھنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں، اسی لیے چوٹی کے کئی قلم کاروں نے بچوں کے لیے لکھنے سے انکار کیا۔ ان خیالات کا اظہار اتالیق فاؤنڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر شہزاد قمر نے ساتھی گائیڈنس فورم کی ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پی پی آئی کے مطابق اُنھوں نے  کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے رجحان سے گھبرانے کے بجائے اس کا مؤثر استعمال کیا جائے کیوں کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ قارئین کی تعداد میں اضافہ تو ہوتا جارہا ہے مگر اچھا ادب لکھنے والوں کی کمی ہے۔ماہ نامہ جگمگ تارے کے مدیر فصیح اللہ حسینی نے ”میں کہانی کیوں لکھوں؟“ کے عنوان پر کہا کہ جو ادیب بچوں کے لیے لکھتا ہے، اسے ہمیشہ بچوں کی تربیت کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔ نیز تحریر سے دل چسپی کا عنصر کبھی نہ چھوٹنے پائے۔ عبدالرحمن مومن نے اصنافِ ادب کا تعارف اور شعری ادب کے حوالے سیرہنمائی فراہم کی۔ آبش صدیقی نے لکھاری کی معاشرتی اہمیت کو اجاگر کیا۔محمد اویس منیر نے شرکا ء کے درمیان سرٹیفیکٹ تقسیم کیے۔

Latest from Blog