سکھر بیراج کے گیٹ کے نقصان پر فوری عدالتی تحقیقات کرائی جائے: پی ٹی آئی سندھ

کراچی(پی پی آئی) سکھر بئراج گیٹ ٹوٹنے کے معا پر پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے چیف سیکریٹری سندھ کو ایک خط مین  سکھر بیراج کے گیٹ نمبر 47 اور 44 کو حالیہ نقصان کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔خط میں انہوں ں ے کہا ہے کہ  قومی میڈیا اور مختلف اطلاعات نے ان نقصانات کی رپورٹ دی ہے، جس کی وجہ سے تمام منسلک نہروں، بشمول نارا، روہڑی، خانپور ایسٹ، خانپور ویسٹ، دادو، رائس، اور کیرتھر نہر کی بندش ہو گئی ہے، جس سے سندھ میں 80 لاکھ ایکڑ زرعی زمین شدید متاثر ہورہی ہے۔خط میں حلیم عادل شیخ نے لکھا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے سندھ کے ہر ضلع میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، خاص طور پر ان کسانوں پر اثر پڑا ہے جنہوں نے حال ہی میں دھان کے بیج بوئے تھے۔ اربوں روپے مالیت کے یہ بیج خشک ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف آنے والی دھان کی فصل بلکہ کپاس، گنا اور دیگر فصلوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ متعلقہ محکمے کی جانب سے بروقت مرمت نہ کرنے سے صوبے میں ایک بڑے پئمانے پر امن امان کے مسئلے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔حلیم عادل شیخ نے نشاندہی کی ہے کہ محکمہ آبپاشی اس تباہی کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔ الزامات ہیں کہ گیٹ کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا تاکہ کچھ افسران کرپشن کر کے فائدہ اٹھا سکیں، کسانوں کی فصلوں اور صوبے کی زراعت اس وقت داؤ پر۔ انہوں نے زور دیا کہ پورا سندھ صوبہ اس بیراج کے پانی پر منحصر ہے، اور اس مسئلے کو حل کرنے میں کسی بھی تاخیر سے لوگوں کی زندگیوں پر منفی اثر پڑے گا۔حلیم عادل شیخ نے کہا صورتحال کی سنگینی کے باوجود، گزشتہ کئی دنوں میں کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی، سوائے اجلاس منعقد کرنے کے۔ حلیم عادل شیخ نے زور دیا کہ اس غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟اور سندھ حکومت نے اب تک مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں، فوری عوام کو بتایا جائے، ہر گھنٹہ سندھ کے لوگوں کی بقا کے لیے اہم ہے۔حلیم عادل شیخ نے اس واقعے میں ملوث تمام افسران کی فوری تحقیقات اور معطلی کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے وزیر آبپاشی کے استعفیٰ اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔حلیم عادل شیخ نے ان فوری مسائل کو حل کرنے کے لیے محکمہ آبپاشی کا جامع اور آزادانہ آڈٹ کیا جائے تاکہ بدعنوانی اور بد انتظامی کی مثالوں کی نشاندہی اور حل کیا جا سکے۔سخت احتساب کے اقدامات نافذ کریں اور فنڈز کے استعمال اور آبپاشی کے منصوبوں کے نفاذ میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔ جاری منصوبوں کے بارے میں آگاہی اور بے ضابطگی کی نگرانی کے مقامی کمیونٹیز اور اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔حلیم عادل شیخ نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرنے، ان مسائل کو حل کرنے اور سندھ صوبے کے کسانوں اور کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

Latest from Blog