پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کا ارون دھتی، شیخ شوکت کیخلاف مقدمہ چلانے پر اظہار تشویش

جنیوا (پی پی آئی) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے معروف بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے اور کشمیری اسکالر شیخ شوکت حسین کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“کے تحت مقدمہ چلانے کے بھارتی حکومت کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کمیشن نے بھارتی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اروندھتی رائے اور شیخ شوکت حسین کے خلاف مقدمات ختم اور یو اے پی اے کے تحت نظر بند انسانی حقوق کے تمام محافظوں کو رہا کریں۔انسانی حقوق کمیشن کے دفتر کی طرف سے سماجی رابطوں کی سائٹ”ایکس“ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ”ناقدین کو خاموش کرانے کیلئے یو اے پی اے کا استعمال باعث تشویش ہے، اس قانون پر نظر ثانی اور اسکے تحت حراست میں لیے گئے انسانی حقوق کے تمام محافظوں کی رہائی ضروری ہے، ارون دھتی رائے اور شیخ شوکت حسین کے خلاف قائم مقدمات بھی ختم کیے جانے چاہئیں“۔نئی دلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے مودی حکومت کی شدید ناقد اروندھتی رائے اور کشمیر سینٹرل یونیورسٹی کے سابق پروفیسر شیخ شوکت کے خلاف حال ہی میں غیر قانونی سرگرمیوں کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمہ چلانے کی منظوری دی ہے۔ رائے اور حسین نے 21 اکتوبر 2010 کو نئی دہلی میں ”آزادی – واحد راستہ“ کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس میں تقاریر کی تھیں۔ان دونوں کے خلاف ایف آئی آر دائیں بازو کے ہندو کارکن سشیل پنڈت کی شکایت پر 28 اکتوبر 2010 کو درج کی گئی تھی۔ ہندو کارکن نے دعویٰ کیا تھاکہ رائے اور دیگر کئی لوگوں نے اپنی تقاریر میں کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کی وکالت کی۔ اروندھتی رائے اور شیخ شوکت کے خلاف یہ مقدمہ 2014 میں درج کیا گیا تھا۔