پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سول سوسائٹی ارکان کی بی جے پی حکومت کی کشمیر دشمن پالیسیوں کی مذمت

سرینگر(پی پی آئی) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے مسلسل کشمیر دشمن پالیسیوں پر بی جے پی کی کٹھ پتلی انتظامیہ کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈاکٹر زبیر احمد، محمد فرقان، محمد اقبال شاہین اور سید حیدر حسین سمیت سول سوسائٹی کے ارکان نے سرینگر میں ایک اجلاس کے دوران دفعہ 370اور 35-Aکو ان کی اصل شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کشمیریوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں تیز کررہی ہے اور ان کے حقوق کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں مظالم بند کرے اورتنازعہ کشمیر کو فوری طوپر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے۔انہوں نے موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی پولیس، تعلیم اور انتظامیہ سمیت تمام شعبوں پر غیر کشمیری بابوؤں کا قبضہ ہے جس سے کشمیریوں کی بقاء   کومزید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم میں درجنوں خالی آسامیوں سے بچوں کی تعلیم متاثرہو رہی ہیں اور اسے موجودہ غیر منتخب حکومت کی کشمیر دشمن پالیسیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال کی طرف مبذول کرائی اور مختلف جیلوں میں قید کشمیری سیاسی نظربندوں کی حالت زار کو اجاگرکرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ من گھڑت الزامات کے تحت کشمیریوں کو نہ صرف گرفتار کیا جارہاہے بلکہ ان کے گھروں، جائیدادوں اور زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت نظربند حریت رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کے خلاف سیاسی انتقام کی کارروائیوں کے لئے عدلیہ کو استعمال کر رہی ہے۔ اجلاس میں اقوام متحدہ پر زور دیاگیا کہ وہ کشمیریوں کو سیاسی ناانصافیوں اور فوجی محاصرے سے نجات دلانے کے لیے آگے آئے۔