متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کراچی کے گلستان جوہرتھانے میں وکلا اور پولیس کی ہاتھا پائی کے بعد حالات کشیدہ

کراچی(پی پی آئی)کراچی کے علاقے گلستان جوہر تھانے میں وکلا اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد وکلا  کی بڑی تعداد تھانے پہنچی تو حالات کشیدہ ہو گئے۔پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک وکیل بغیر اجازت ایس ایچ او کے سائڈ روم میں داخل ہوا تھا، وکیل کو باہر جانے کا کہا تو اس نے بدتمیزی کی، وکیل نے اپنے دیگر ساتھیوں کو بلوا کر تھانے پر حملہ کیا۔دوسری جانب صدر کراچی بار عامر وڑائچ نے پولیس کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم پر قادر راجپر ایڈووکیٹ ٹک ٹاکر کی گاڑی ریلیز کروانے گیا تو ایس ایچ او نے گاڑی ریلیز کرنے کی بجائے وکیل سے بدتمیزی کی۔عامر وڑائچ نے بتایا کہ ایس ایچ او گلستان جوہر نے قادر راجپر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور لاک اپ میں بند کر دیا، اطلاع ملنے پر وکلا  تھانے پہنچے تو پولیس نے تشدد کر کے 4 وکلا کو زخمی کر دیا۔پی پی آئی کے مطابق کشیدگی میں اضافے کے بعد ایس پی گلستان جوہر بھی تھانے پہنچ گئے اور کراچی بار کے عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات ہوئے،وکلا کے احتجاج کے بعد ایس ایچ او گلستان جوہر کو رات گئے معطل کر کے عہدے میں تنزلی کر دی گئی، ایس ایچ او گلستان جوہر اور ان کی ٹیم کیخلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔