شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کراچی کے گلستان جوہرتھانے میں وکلا اور پولیس کی ہاتھا پائی کے بعد حالات کشیدہ

کراچی(پی پی آئی)کراچی کے علاقے گلستان جوہر تھانے میں وکلا اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد وکلا  کی بڑی تعداد تھانے پہنچی تو حالات کشیدہ ہو گئے۔پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک وکیل بغیر اجازت ایس ایچ او کے سائڈ روم میں داخل ہوا تھا، وکیل کو باہر جانے کا کہا تو اس نے بدتمیزی کی، وکیل نے اپنے دیگر ساتھیوں کو بلوا کر تھانے پر حملہ کیا۔دوسری جانب صدر کراچی بار عامر وڑائچ نے پولیس کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم پر قادر راجپر ایڈووکیٹ ٹک ٹاکر کی گاڑی ریلیز کروانے گیا تو ایس ایچ او نے گاڑی ریلیز کرنے کی بجائے وکیل سے بدتمیزی کی۔عامر وڑائچ نے بتایا کہ ایس ایچ او گلستان جوہر نے قادر راجپر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور لاک اپ میں بند کر دیا، اطلاع ملنے پر وکلا  تھانے پہنچے تو پولیس نے تشدد کر کے 4 وکلا کو زخمی کر دیا۔پی پی آئی کے مطابق کشیدگی میں اضافے کے بعد ایس پی گلستان جوہر بھی تھانے پہنچ گئے اور کراچی بار کے عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات ہوئے،وکلا کے احتجاج کے بعد ایس ایچ او گلستان جوہر کو رات گئے معطل کر کے عہدے میں تنزلی کر دی گئی، ایس ایچ او گلستان جوہر اور ان کی ٹیم کیخلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔