شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان کی برسی آج منائی جائے گی

کراچی(پی پی آئی)بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان کی برسی جمعرات کو منائی جائے گی۔نوابزادہ نصر اللہ خان 13 نومبر 1916کو مظفرگڑھ کے قصبے خان گڑھ میں پیدا ہوئے۔وہ26 اور 27 ستمبر 2003کی درمیانی رات وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے، انہیں ان کے آبائی قبرستان خان گڑھ میں سپرد خاک کیا گیا۔جمہوریت کیلئے نوابزادہ نصر اللہ خان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔1951 کے بعد ملک میں جتنے بھی سیاسی اتحاد بنے نوابزادہ نصراللہ خان کا ان کے ساتھ بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق ضرور رہا، انہیں سب سے زیادہ شہرت ایوب خان کے دور میں اس وقت ملی جب ان پر بغاوت کا مقدمہ بناسیاست انہوں نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے شروع کی1950  میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، بعدازاں اختلافات کی بنا پر مسلم لیگ سے استعفیٰ دے دیا اور حسین شہید سہروردی کے ساتھ مل کر عوامی لیگ قائم کی، نوابزادہ نصر اللہ خان 1962 میں قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔پی پی آئی کے مطابق انہوں نے ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیا  الحق، بے نظیر بھٹو،  نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف حزب اختلاف کا کردار ادا کیا، نوابزادہ نصراللہ خان کو اپنی سیاسی زندگی میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں، کئی مرتبہ جیل گئے اور متعدد بار نظر بند رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کم و بیش 18 سیاسی اتحاد بنائے، جن میں پاکستان قومی اتحاد، ایم آر ڈی، این ڈی اے، اے آر ڈی، اے پی سی اور دیگر سیاسی اتحاد شامل ہیں، جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں انہوں نے اے آر ڈی کیپلیٹ فارم پر بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) کو جمع کیا۔