سرینگر(پی پی آ ئی)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پی ڈی پی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے پانچ ارکان اسمبلی نامزد کرنے کے لیفٹننٹ گورنر کے اختیار کی شدید مخالفت کی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے لیفٹننٹ گورنر کی طرف سے پانچ ارکان کی نامزدگی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی غیر آئینی کوشش کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نیشنل کانفرنس نے اعلان کیا کہ اگر ایل جی نے ارکان کو نامزدکیا تو وہ بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ کانگریس پارٹی نے بھی اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا جبکہ پی ڈی پی نے بھی اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جانے کا عزم ظاہر کیا۔یہ تنازعہ جموں وکشمیرتنظیم نو ایکٹ 2019میں کی گئی ترامیم سے کھڑا ہواجن کے تحت لیفٹننٹ گورنر کو اسمبلی کے پانچ ارکان نامزد کرنے کا اختیاردیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پرگورنر کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ دوخواتین ارکان کو قانون ساز اسمبلی کے لئے نامزد کرے۔تاہم جولائی 2023میں کی گئی ترمیم کے تحت گورنر کوتین مزید ارکان نامزد کرنے کا اختیاردیاگیاجن میں سے ایک خاتون سمیت دو کشمیری پنڈت برادری اور ایک آزاد جموں و کشمیرکے مہاجرین کے لئے مختص ہے۔
Next Post
وانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جارہی ہیں:اویس لغاری
Tue Oct 8 , 2024
اسلام آباد(پی پی آ ئی)آج (منگل) اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز معاہدے کی شرائط پر نظر ثانی کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔ سردار اویس احمد لغاری نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری کی جائے گی۔انہوں نے کہا […]
