شہر پر بیماریوں کا راج ہے، حکومت و انتظامیہ سو رہی ہے: الطاف شکور

کراچی (پی پی آ ئی ( پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکورنے کراچی میں صفائی کی ناقص صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچرے کے ڈھیر اور بہنے والے گٹروں سے میگا سٹی میں وائرل، فنگل اور بیکٹیریل انفیکشن خطرناک حد تک پھیل رہے ہیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتال کے ایمرجنسی رومز بھرے ہوئے ہیں۔ ڈینگی بخار اور دیگر ویکٹر بیماریاں بڑھ رہی ہیں لیکن حکومت صورتحال کو کم کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کر رہی۔حکام اور انتظامیہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔محکمہ بلدیات کے وزیر، کمشنر کراچی اور سٹی میئر گہری نیند سے جاگ جائیں اور بیماریوں میں مبتلا غریب لوگوں کی مدد کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیں۔ شہر بھر میں موجود کچرے کے ڈھیر اورکوڑا کرکٹ کو مناسب طریقے سے جمع کیا جائے، گٹر کی لائنوں کی مرمت کو یقینی بنایا جائے۔ غریب علاقوں میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی مدد کے لیے خصوصی میڈیکل کیمپ کا اہتمام کیا جائے۔الطاف شکور نے وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی مناسب فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو پورا کرنے کے لیے ان میں شام کی او پی ڈی کا بھی انتظام کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ سندھ شہر کی صورتحال کا جائزہ لیں اورفوری ضروری اقدامات کریں۔  پی ڈی پی طویل عرصے سے میگا سٹی کے مختلف حصوں میں فری سٹینڈنگ ایمرجنسی روم قائم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ میگا سٹی کے اہم ہسپتالوں میں مریضوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ پاسبان اسٹئرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں شہر میں بڑھتی ہوئی ظکرناک بیماریوں پر گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ شہر پر بیماریوں نے اچافنک حملہ کر دیا ہے، ہر گھر میں ایک یا دو مریض مختلف وائرل بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو پورا کرنے کے لیے ادویات کا کافی ذخیرہ یا افرادی قوت نہیں ہے۔ غریب عوام کوڈاکٹروں کی فیسوں اور ادویات کے اخراجات برداشت کرنے کے علاوہ کام کے دن چھوٹ جانے کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ بچے قوت مدافعت کم ہونے کی وجہ سے ان خطرناک بیماریوں کازیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ پورے شہر میں میونسپلٹی کے حالات انتہائی خراب ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کی وجہ سے جمع نہ ہونے والے کچرے کے ڈھیر، بہتے گٹر اور سڑکوں پر حد سے زیادہ گندگی نے کراچی والوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ کچروں کے ڈھیروں پر مچھر اور مکھیوں کی بھرمار ہے۔ یہ تمام عوامل جراثیم اوربیماریاں پھیلا رہے ہیں۔ کے ایم سی، ٹاؤن اور یوسی انتظامیہ غلاظت کے دھیروں کو ختم کرنے  اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اپناکردار ادا کرنے کے بجائے خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

26ویں آئینی ترمیم کا مسودہ چھبیس نکات پر مشتمل اور متفقہ ہے: اعظم تارڑ

Sun Oct 20 , 2024
اسلام آباد  (پی پی آ ئی ( وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ 26ویں آئینی ترمیم پیش ہونے جارہی ہے، مسودہ26نکات پر مشتمل اور متفقہ ہے۔اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ تمام حکومتی اتحادی جماعتوں نے مختلف اوقات میں […]