شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بریسٹ کینسر کی شرح میں پاکستان ایشیا بھر میں سرفہرست،30 برس سے زائدکی خواتین بھی شامل

کراچی (پی پی آئی)ڈاؤ میڈیکل کالج کی پرنسپل  پروفیسر ڈاکٹر صبا سہیل نے کہا ہے کہ ایشیا میں بریسٹ کینسر کی شرح میں پاکستان سب سے آگے ہے، انہوں نے بتایا کہ بریسٹ کینسر کے کیسز 30 برس سے زائد العمر خواتین میں بھی سامنے آرہے ہیں لیکن اکثر کی تشخیص اسٹیج تھری اور فور میں ہوتی ہے جس کی وجہ اسکریننگ نہ کروانا ہے، انہوں نے کہا کہ بروقت میموگرافک اسکریننگ کے ذریعے  بریسٹ کینسر سے ہونے والی اموات میں کافی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ میموگرافک اگرچہ تکلیف دہ ٹیسٹ لیکن 40 برس سے زائد العمر خواتین کو ہر 2 سال بعد یہ ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص اور علاج کیا جاسکے،یہ باتیں انہوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج کے آراگ آڈیٹوریم میں بریسٹ کینسر کی آگاہی کے عنوان پر مبنی سمپوزیم میں کہیں،اس سمپوزیم کا انعقاد ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور سول اسپتال کے بریسٹ سرجری یونٹ، سرجیکل یونٹ 3، ڈپارٹمنٹ آف میڈیکل آنکولوجی  کے اشتراک سے کیا گیا،سمپوزیم سے  پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر صبا سہیل، ایس آئی یو ٹی کی ڈاکٹر نرجس مظفر، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاؤ یونیورسٹی ڈاکٹر مریم نعمان، ایسوسی ایٹ پروفیسر آغا خان یونیورسٹی ڈاکٹر عابدہ خلیل ستار، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاؤ یونیورسٹی ڈاکٹر عمیمہ سلیم، انچارج بریسٹ سرجری  یونٹ پروفیسر ڈاکٹر فرحت جلیل اور ڈاکٹر راجا راہول  نے خطاب کیا، اس موقع پر سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بخاری بھی موجود تھے۔