پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں خطبہ جمعہ کی حکومت سے منظوری لازمی قرار

رائے پور(پی پی آئی)بھارت میں وقف بورڈ کے قوانین میں زبردستی ترامیم کی کوششوں کے دوران ریاست چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی حکومت نے غیر آئینی و غیر قانونی قدم اٹھاتے ہوئے ریاست کے ائمہ مساجد کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ خطبہ جمعہ سے قبل وقف بورڈ سے اس کی منظوری لیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق چھتیس گڑھ حکومت کے ماتحت وقف بورڈنے مسلمانوں کی عبادت اور مذہبی امور میں براہ راست مداخلت کرتے ہوئے انتہائی قابل مذمت قدم اٹھایا اور ریاست کی تمام مساجد کے متولیان کو ہدایت دی کہ وہ نماز سے قبل بورڈ سے خطبہ جمعہ کی منظوری لیں۔ وقف بورڈ کے چیئرمین نے کہاکہ مساجد اور درگاہیں وقف بورڈ کے ماتحت ہیں اس لئے وہ اس طرح کا حکم جاری کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔وقف بورڈ نے ائمہ کو ہدایت دی کہ وہ حکومت کی  اسکیموں کے بارے میں عوام کو بتائیں۔ وقف بورڈ نے ریاست کی تمام مساجد کے متولیوں کا واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا ہے اور ہر متولی کو اس گروپ میں خطبہ جمعہ کا موضوع اور اس کی تفصیلات دینی ہوں گی۔ وقف بورڈ سے مقرر کردہ افسران اس کی جانچ کریں گے اوربورڈ کی منظوری کے بعد ہی ائمہ اس موضوع پر مساجد میں خطبہ دے سکیں گے۔ وقف بورڈ نے دھمکی دی کہ اگر ائمہ نے ان ہدایات پر عمل نہ کیا تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے۔ ائمہ کو اگلے جمعہ سے ان ہدایات کو ہر حال میں نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔دریں اثناآل انڈیامجلس اتحا دالمسلین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھتیس گڑھ کی بی جے پی حکومت کا وقف بورڈ چاہتا ہے کہ خطیب جمعہ کا خطبہ دینے سے پہلے اس کی منظوری لیں اور بورڈ کی اجازت کے بغیر خطبہ نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آیا اب بی جے پی والے ہمیں بتائیں گے کہ دین کیا ہے؟ اب کیا مجھے اپنے مذہب پر چلنے کے لیے ان سے اجازت لینی ہوگی؟ اسدالدین اویسی نے کہا کہ وقف بورڈ کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے، اگر اس کے پاس ایسا کوئی اختیار ہوتا تو یہ آئین کے آرٹیکل25 کی خلاف ورزی ہوتی۔