اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

امریکی سفارتخانے کے تعاون سے انگریزی فیکلٹی ڈیولپمنٹ ٹریننگ پروگرام شروع

اسلام آباد(پی پی آئی)نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن نے امریکی سفارتخانے کے ریجنل انگلش لینگویج آفس کے تعاون سے ایچ ای سی اسلام آباد میں 20 نومبر 2024 کو انگریزی فیکلٹی ڈیولپمنٹ ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا۔ یہ تربیتی پروگرام، جو 22 نومبر تک جاری رہے گا، پاکستان بھر کے انگریزی زبان کے اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں اور مہارتوں سے لیس کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر نور آمنہ ملک نے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بلند کرنے میں مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے شرکاپر زور دیا کہ وہ اس تربیتی پروگرام سے حاصل کردہ علم کو اپنے ساتھیوں تک پہنچائیں تاکہ اس کے اثرات کو مزید بڑھایا جا سکے۔ریجنل انگلش لینگویج آفیسر، جناب جیرالڈ فرینک، نے زبان کی تدریس میں ثقافتی آگاہی کے انضمام پر زور دیا اور پاکستان بھر کے اساتذہ کی مدد کے لیے RELO کے عزم کا اعادہ کیا۔پروگرام کی قیادت یونیورسٹی آف اوریگون سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ انگریزی زبان کی ماہر ڈاکٹر پیٹریشیا پاشبی کر رہی ہیں۔ 30 سال سے زائد عالمی تجربے کے ساتھ، ڈاکٹر پاشبی انٹرایکٹو ورکشاپس میں جدید تدریسی تکنیک، بین الثقافتی مواصلات، اور نصاب ڈیزائن پر تربیت فراہم کر رہی ہیں۔اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ اس پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں، جو خیالات اور بہترین تدریسی طریقوں کے تبادلے کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ یہ تعاون پاکستان میں انگریزی زبان کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے اقدامات کے ذریعے اساتذہ کو ایک عالمگیر اور ٹیکنالوجی سے بھرپور دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔