سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات سنگین خطرہ ہیں:پاسبان

وزیراعظم سے مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات

گورنرسندھ کی اسپیکرقومی اسمبلی ،جرمنی کی سفیر اور چیئرمین سینیٹ سے ملاقاتیں

کھورواہ میں جھگڑے کے دوران خاتون ہلاک ،، 2 مرکزی ملزمان گرفتار

نواز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کا اعلیٰ سطحی اجلاس ، آزاد کشمیر کی صورت حال پر تفصیلی غور

اوکاڑہ ،لالا زار کالونی ویں کی ٹکر سے عمر رسیدہ خاتون جاں بحق ،بیٹا زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

حولیاتی تبدیلی کو ایک “خطرہ بڑھانے والا عنصر” ہے:کراچی کانفرنس کا اعلامیہ

کراچی(پی پی آئی)کراچی میں ماحولیاتی تبدیلی، زراعت، انسانی غذائیت اور ترقی پر سالانہ کانفرنس  منعقد ہوئی، جس میں ماحولیاتی مسائل، زراعت، اور غذائیت سے متعلق ماہرین، پالیسی سازوں اور محققین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا انعقاد آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ  اور سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سلوشنز نیٹ ورک پاکستان کے اشتراک سے کیا گیا۔کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات، خاص طور پر پاکستان اور دنیا کے دیگر متاثرہ خطوں میں، سے نمٹنے کے لیے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی  اور ماہرین نے ماحولیاتی تبدیلی کو ایک “خطرہ بڑھانے والا عنصر” قرار دیا، جو صحت، غذائیت اور روزگار کو متاثر کر رہا ہے۔۔ڈاکٹر ذوالفقار اے بھٹہ نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، اور آج کیے جانے والے فیصلے یہ طے کریں گے کہ ہم ماحولیاتی بحران کو کم کریں گے یا اس کے اثرات کو بڑھا دیں گے۔ پروفیسر سر اینڈریو ہینز اور ڈاکٹر لینیٹ نیوفیلڈ نے ماحولیاتی تبدیلی کے غیر مساوی اثرات پر روشنی ڈالی۔ ترقی یافتہ ممالک زیادہ گرین ہاؤس گیسز خارج کرتے ہیں، لیکن پاکستان جیسے ممالک گرمی کی شدت، غیر متوقع بارشوں اور خوراک کی عدم دستیابی جیسے شدید اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے خوراک کی عدم دستیابی خواتین کی ذمہ داریوں کو بڑھا دے گی، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، جہاں ہجرت کے رجحانات اور روایتی صنفی کردار مزید چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔ماہرین نے ایسے حل پیش کیے جو فطرت پر مبنی ہوں اور مختلف شعبوں کے اشتراک سے ماحولیاتی خطرات کو کم کریں اور لاکھوں جانوں کو بچائیں۔چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد اور صدر آغا خان یونیورسٹی ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین نے تحقیق پر مبنی پالیسی جدتوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی جیسے ادارے پائیدار ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔پاکستان میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر متوقع موسمی حالات اور خوراک کی عدم دستیابی جیسے مسائل سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے۔ اس طرح کی کانفرنسیں نہ صرف شعور اجاگر کرتی ہیں بلکہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اہم تعاون کو بھی فروغ دیتی ہیں۔یہ دو روزہ کانفرنس پاکستان کی زراعت، صحت اور غذائیت پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حل تجویز کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور پائیدار ترقی کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی اہمیت کو اجاگر کرے گی۔