شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

چائے کے درآمد کنندگان کے لیے یکساں کاروباری مواقع فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے:جاوید بلوانی

کراچی(پی پی آئی)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کالی چائے کی بھاری مقدار درآمد پر 1200 روپے فی کلو گرام یکساں ریٹ کی کم از کم ریٹیل پرائس (ایم آر پی) مقرر کرنے کے بارے میں  پاکستان ٹی ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کی جانب سے اظہار تشویش سے کے رد عمل میں حکومت پر زور دیا کہ اس غیر منصفانہ ضابطے کو فوری طور پر واپس لیا جائے جس کے با عث درآمد کنندگان کو سزا دیتے ہوئے نہ صرف زیادہ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ فی کلو گرام پر ایم آرپی کا یکساں ریٹ مقرر کرنے سے  شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کم آمدنی والے افراد پر غیر متناسب اثر پڑے گا۔یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر  کا دورہ کرنے والے پی ٹی اے کے وفد سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پرچیئرمین پی ٹی اے محمد الطاف، نائب صدر کے سی سی آئی فیصل خلیل احمد،  ابوبکر شمسی، سلیم امان اللہ،  سہیل انور، عبداللہ قادر کوڑیا اور عبدالباسط عبدالرزاق بھی موجود تھے۔جاوید بلوانی نے تجویز دی تمام درآمدی چائے پر یکساں ریٹ لاگو کرنے کے بجائے سوچ بچار پر مبنی طریقہ اختیارکیا جائے۔ ایم آر پی کو 1200فی کلو کردینے کے نتیجے میں 80سینٹ فی کلو کی معمولی قیمت پر درآمد کی جانے والی چائے پرزائد سیلز ٹیکس کی تشخیص کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کالی چائے 80سینٹ سے لے کر 4.5ڈالر فی کلو کی قیمت پر درآمد کی جارہی ہے۔ ایک طرف یہ اقدام جائز  درآمد کنندگان کے لئے مشکلات کو بڑھا رہا ہے  اور دوسری طرف فاٹا، پاٹا کو چھوٹ دی جارہی ہے جبکہ ڈرائی پورٹ کی سہولیات ٹیکس چوری کے لیے بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہی ہیں  یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ2023-24 کے دوران فاٹا، پاٹا کے استثنیٰ کے تحت 23 ملین کلو گرام چائے آئی جو پاکستان بھر کی مارکیٹوں میں پہنچ گئی۔فاٹا، پاٹا چھوٹ کے تحت درآمد کی جانے والی چائے ان علاقوں میں کھپت سے500 فیصد زیادہ ہے جس کا مطلب ہے کہ ان علاقوں سے تقریباً20 ملین کلو گرام چائے دوسرے چینلز کے ذریعے پاکستان کے باقی حصوں میں بھیجی گئی جس سے قومی خزانے کو ہر سال  25 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ چیئرمین پاکستان ٹی ایسوسی ایشن محمد الطاف نے کہا کہ چائے عام طور پر 5 کلو گرام سے لے کر 80 کلوگرام فی بیگ میں بھاری مقدار میں درآمد کی جاتی ہے جو کمرشل درآمد کنندگان یا مینوفیکچررز کے ذریعے صارفین تک پہنچنے سے پہلے بلینڈنگ، مکسنگ، پیکنگ وغیرہ کے مراحل سے گزرتی ہے۔سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تیسرے شیڈول کے سیریل نمبر 14 کے تحت درآمدی چائے پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ کالی چائے بلینڈنگ اور پیکنگ کے لیے درآمد کی جاتی ہے لہٰذا اسے خام مال سمجھا جانا چاہیے اور اس پر سیلز ٹیکس ایم آر پی کے بجائے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 2 کے ذیلی سیکشن 46 (ایف) کے مطابق درآمدی قیمت پر ہونا چاہیے بصورت دیگر درآمدی چائے کی قیمتوں پر 150 سے 300 روپے فی کلو گرام کے اضافے کی شکل میں منفی اثر پڑے گا۔