کراچی ڈیفنس سوسائٹی میں نوجوان خاتون نے مبینہ طور پر گولی مار کر خودکشی کر لی

کوٹ غلام محمد میں 5 بچوں کی ماں کرنا کولہی نے رسہ گلے میں ڈالکر خود کشی کر لی

خطرناک مسلح مجرم ٹھٹھہ پولیس سے مقابلے میں گرفتار ،ساتھی فرار ،سیاحوں سے چھینے گئے قیمتی موبائل فون برآمد

اوکاڑہ میں المناک حادثہ ، ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، 14 سالہ بچہ جاں بحق

وفاقی وزیر صحت کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ، صحت کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت

ایس ای سی پی نے ”سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس” فریم ورک متعارف کرا دیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ایس ایم تنویر کا شرح سود میں ایک ہی بار 500 بیسس پوائنٹس کی کمی کا مطالبہ

کراچی(پی پی آئی)یونائیٹڈ بزنس گروپ اوربزنس مین پینل پاکستان (یو بی جی-بی ایم پی پی) کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ پیر کومانیٹری پالیسی میں شرح سود میں ایک ہی بار 500 بیسس پوائنٹس کی کمی کرکے اقتصادی ترقی کی حمایت کرے۔ایس ایم تنویر نے کہا کہ شرح سود میں خاطر خواہ کمی نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے گی بلکہ حکومت کے لیے بھی فائدہ مند ہوگی۔انہوں نے کہا کہ غیر ضروری تاخیر ملک کی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے، خاص طور پر جب حکومت بھی شرح سود کو سنگل ڈیجٹ تک لانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، بروقت اقدام ہماری معاشی استحکام میں نمایاں بہتری کا مظاہرہ کرے گا اور ہماری حالیہ پالیسی اقدامات کی مؤثریت کو ظاہر کرے گا۔ایس ایم تنویر نے کہا کہ شرح سود میں نمایاں کمی وقت کی ضرورت بن چکی ہے، کیونکہ اس سے بینک مارک اپ کی شرحیں دوبارہ سنگل ڈیجٹ پر واپس آجائیں گی، جس سے کاروبار اور صارفین کے لیے قرضوں کا حصول مزید قابل استطاعت ہو جائے گا، کم شرح سود سرمایہ کاری کو فروغ دے گی، معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرے گی، اور ہماری قوم کی مجموعی خوشحالی میں معاون ہوگی۔ایس ایم تنویر نے مزید کہا کہ نومبر 2024 کے لیے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پہلے ہی سال بہ سال (YoY) 4.9 فیصد تک کم ہو چکا ہے، جو پچھلے مہینے 7.2 فیصد تھا۔ایس ایم تنویر نے کہا کہ حقیقی افراط زر کی شرح تمام پیش گوئیوں سے بہتر رہی ہے، اور یہ مثبت پیش رفت ہمارے معاشی منصوبہ سازوں کی محنت اور کاروباری برادری کی استقامت کا ثبوت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یو بی جی-بی ایم پی پی میں، ہم ایسی پالیسیوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہیں جو اقتصادی ترقی، استحکام، اور سب کے لیے خوشحالی کو فروغ دیتی ہیں۔ ہم حکومت، صنعت کے اسٹیک ہولڈرز، اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان فواط ئد کو برقرار رکھنے اور ان میں مزید بہتری کے لیے کام جاری رکھیں گے۔