پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

2025 مذہبی سیاحت کے فروغ کا سال ہوگا: حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

اسلام آباد03جنوری(پی پی آئی) پاکستان علما کونسل کے چیئرمین  حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے 2025 کو مذہبی سیاحت کے فروغ کا سال قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے اسلامی دنیا میں اہم کردار ادا کرے گا۔  حافظ محمد طاہر محمود اشرفی  نے ایک بیان میں نے کہاہم تمام اسلامی اور عرب ممالک کے ذمہ داران سے رابطہ کریں گے تاکہ مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ اگر پاکستان کے اہم سفری اور سیاحتی ادارے متحد ہو کر کوشش کریں تو اربوں ڈالرز کی آمدنی سیاحت کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ حج کے بعد پاکستان میں اہم اسلامی عرب ممالک کے سیاحتی وزراکی کانفرنس بلانے کی کوشش کی جائے گی۔ حافظ اشرفی نے سعودی عرب کی ٹورازم وزارت کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کے سیاحتی شعبے کو بھی ترقی دی جا سکے۔غلط آدمی سے پنگا، کمپنی کو ڈیڑھ روپیہ اضافی چارج کرنا مہنگا پڑ گیا، صارف نے 7 سالہ جدو جہد کے بعد کیس جیت لیاانہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حج و عمرہ سے متعلق نئی جہتوں اور تعاون کے راستوں کو کھولنے پر زور دیا اور کہاہم کسی صورت نہیں چاہتے کہ حج کے معاملے میں کسی کے ساتھ زیادتی ہو۔حافظ اشرفی نے ایس آئی ایف سی (اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل) کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مذہبی سیاحت کے فروغ میں اہم معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ایس آئی ایف سی کے قیام کو پاکستان کے لیے انتہائی مفید قرار دیا۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی مقدس جگہوں اور اسلامی تاریخ کو دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پرکشش بنایا جائے تاکہ مذہبی سیاحت کے ذریعے نہ صرف ملکی معیشت مضبوط ہو بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی تبادلے کو بھی فروغ دیا جا سکے۔