شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

فلسطین کی آزادی مولانا محمد علی جوہر کا مشن تھا۔ محفوظ النبی خان

کراچی 03جنوری(پی پی آئی)ارض فلسطین کی آزادی مولانا محمد علی جوہر کی زندگی کا مشن تھا اگر آج وہ زندہ ہوتے تو پورے عالم اسلام کو غزہ میں اسرائیلی بربریت کے خلاف نمبرد آزما ہونے کے لیے عوامی تحریک منظم کرتے ان تاثرات کا اظہار معروف سماجی و سیاسی رہنما محفوظ النبی خان نے مولانا محمد علی جوہر کی برسی کے موقع پر ایک بیان میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا محفوظ النبی خان نے کہا کہ برصغیر میں مولانا محمد علی جوہر کی زیر قیادت تحریک خلافت کی شدت کا اندازہ اس امر سے لیا جاسکتا ہے کہ اسوقت کے ہندوستان کے برطانوی وائسرائے کو اپنے وزیر اعظم کو ٹیلیگرام کے ذریعے متنبہ کرنا پڑھا کہ اگر ترکی کے بارے میں برطانوی پالیسی تبدیل نہ ہوئی تو برطانیہ کے لیے ہندوستان پر حکومت کرنا مشکل ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ مولانا جوہر کے کردار کی طرح ان کی والدہ بی اماں کے جرآت مندانہ کردار اور ان کے بھائی مولانا شوکت علی کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ مولانا جوہر کی زیر قیادت تحریک خلافت کا ثمر تھا کہ بعد ازاں قائد اعظم کی رہنمائی میں آل انڈیا مسلم لیگ کو چوہدری خلیق الزماں، شیخ عبد المجید سندھی، مولانا ظفر علی خان، سردار عبد الرب نشتر اور مولانا عبد الحمید بھاشانی جیسے رہنما اور ہزاروں تربیت یافتہ سیاسی کارکنان میسر آئے جنہوں نے اپنی لازوال جدوجہد کے ذریعے بر صغیر میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ قومی وطن حاصل کیا۔