شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

شاہراہ بھٹومحض ایک سڑک نہیں، یہ کراچی کے مستقبل کیلئے ایک لائف لائن ہے:مراد علی شاہ

کراچی 11جنوری(پی پی آئی)  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ شاہراہ شہید ذوالفقار علی بھٹو محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی عملی جدوجہد ہے جنھوں نے 95-1994 میں لیاری اور ملیر ایکسپریس ویز متعارف کرانے کیلئے اپنے وژن کے تحت کراچی پیکیج کا اعلان کیا جس کا مقصد کراچی کی بڑھتی ہوئی ٹریفک مسائل کو ختم کرنے اور اس کے بنیادی اسٹرکچر کو جدید بنانا تھا۔  یہ بات انہوں نے ہفتہ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے شاہراہِ شہید ذوالفقار علی بھٹو (شاہراہِ بھٹو) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مراد شاہ نے کہا کہ شاہ فیصل انٹرسیکشن (شاہراہ بھٹو کا ایک اہم حصہ) کا افتتاح چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو نے کیا ہے وزیراعلیٰ نے کہا یہ سفری سہولیات اور تیز رفتار کوریڈور کراچی کے شہریوں کیلئے انقلاب لانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو مسافروں کو فوری ریلیف فراہم کرتا ہے اور 2025 تک مکمل 38.75 کلومیٹر ایکسپریس وے کی تکمیل کا مرحلہ طے کرتا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ شاہراہ  شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کراچی پیکیج (1994-95) کی تکمیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کراچی کے مستقبل کے لیے ایک لائف لائن ہے انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں اس پیکیج نے کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل اور اس کے بنیادی اسٹرکچر کو جدید بنانے کیلئے لیاری اور ملیر ایکسپریس ویز کو متعارف کرایا،  شاہراہ بھٹو پراجیکٹ جس کی لاگت 54.7 ارب روپے ہے، سندھ حکومت نے 31.3 ارب روپے کا حصہ ڈالا جبکہ باقی پرائیویٹ ایکویٹی اور کمرشل قرضوں کے حصول ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ  مکمل فعال ہونے کے بعد شاہراہ بھٹو سفر کے وقت کو ایک گھنٹے سے کم کرکے صرف 25 منٹ کر دے گی تاکہ شاہراہ فیصل کے متبادل کے طور پر کام کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ منصوبہ کی تعمیر نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی بھی رہائشی بے گھر نہ ہوسکے جو اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے عزم کو برقرار رکھتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پی پی پی بنیادی اسٹرکچر کے منصوبوں کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں حیدرآباد-میرپورخاص ڈوئل کیریج وے، سر آغا خان جھرک-ملاں کاتیار پل، گھوٹکی-کندھ کوٹ پل (سندھو دریاء   پر سب سے طویل پل)، نبی سر-وجیہر واٹر ورکس پروجیکٹ شامل ہیں جو تھر بلاک-I کے آئی پی پیز کو سپورٹ کرے گا اور قومی توانائی کی لاگت کو کم کرے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شہر کی بڑھتی ہوئی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے اور اس کے رہائشیوں کی بہتر خدمت کے لیے اضافی 400 ایم جی ڈی پانی کراچی لانے کا وعدہ کیا۔