شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ملک کی کلیدی مانیٹری پالیسی کی شرح کو رینجل بینچ مارکس کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے:کراچی چیمبر آف کامرس

کراچی25جنوری (پی پی آئی)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کی کلیدی مانیٹری پالیسی کی شرح کو رینجل بینچ مارکس کے ساتھ ہم آہنگ کرے تاکہ معاشی ترقی کو سپورٹ اور کاروبار پر بوجھ کم کیا جاسکے۔انہوں نے اس بات کو اجاگرکیا کہ کراچی چیمبر شرح سود میں مخصوص کمی کی وکالت کرنے کے بجائے پالیسی سازوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستان کی کلیدی پالیسی ریٹ کوہمسایہ ممالک جیسے چین اور بھارت کے برابر لانے کے لئے حکمت عملی اپنائے۔ان ممالک میں شرح سود بالترتیب 3.1 فیصد اور 6.5 فیصد ہے جو کہ ایک سازگار کاروباری ماحول اور سستے قرضوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرتی ہے۔انہوں نے پاکستان کی موجودہ مانیٹری پالیسی ریٹ سے درپیش اہم چیلنجز سے نمٹنے پر زور دیا جو کہ 13 فیصد پر اب بھی ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔زائد شرح سود سرمایہ کاری کو روکتی ہیں اور کاروباری اداروں کے لیے قرضوں کے اخراجات کو بڑھاتی ہے بالخصوص ایس ایم ایز جو کہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔13 فیصد پر کلیدی پالیسی ریٹ کے ساتھ قرض لینا مہنگا ہے جس سے ترقی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت کو کم کر تا ہے۔اس کے برعکس کم شرح سود والے علاقائی ممالک نے اپنی صنعتوں کو عالمی مارکیٹوں میں مسابقتی برتری فراہم کی ہے۔کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری  کے اعلامیہ کے مطابق صدر کے سی سی آئی نے کہا کہ پاکستان نے مہنگائی کو کم کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے جو کہ دسمبر 2024 تک کم ہو کر 4.1 فیصد رہ گئی ہے جو گزشتہ چھ سالوں میں کم ترین سطح ہے۔انہوں نے اس کا موازنہ چین سے کیا جہاں مہنگائی کی شرح تقریباً 0.7 فیصد ہے اور بھارت میں تقریباً 6 فیصد کے قریب ہے۔افراط زر کی شرحوں میں یہ واضح فرق پورے خطے میں مختلف مالیاتی اور مانیٹری حکمت عملیوں کو نمایاں کرتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ پاکستان کی افراط زر میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے لیکن اس پیش رفت کو فائدہ مند بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مانیٹری پالیسی ریٹ کو  رینجل بینچ مارک کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔پاکستان کی موجودہ 13فیصد پالیسی ریٹ کاروبار خاص طور پر مالیاتی اخراجات کے حوالے سے اب بھی چیلنجز پیدا کرتی ہے۔مہنگائی کی کم شرح کے پیش نظر شرح سود میں کمی نہ صرف کاروباری اداروں کو مضبوط کرے گی بلکہ عالمی مارکیٹوں میں ملک کی مسابقت کو بھی بہتر بنائے گی۔جاوید بلوانی نے سود کی بلند شرحوں پر قرضوں تک رسائی پر پڑنے والے اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بہت سے چھوٹے کاروبار یا تو مالیاتی وسائل حاصل کرنے سے قاصر ہیں یا غیر مستحکم ادائیگی کی شرائط کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔یہ نہ صرف انفرادی کاروباری اداروں کے لیے رکاوٹ بنتا ہے بلکہ مجموعی معیشت کو بھی متاثر کرتا ہے کیونکہ قرضوں کی کم دستیابی صنعتی پیداوار اور روزگار کے مواقع میں سست روی کا سبب بنتی ہے۔انہوں نے اسٹیٹ بینک اور حکومت پر زور دیا کہ وہ قلیل مدتی مالیاتی اقدامات پر اقتصادی استحکام اور طویل مدتی ترقی کو ترجیح دیں۔انہوں نے شرح سود کو رینجل بینچ مارک کے قریب لانے کی درخواست کی تاکہ سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔پالیسی سازوں کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ مہنگائی سے نمٹنے اور شرح سود کو ریجنل بینچ مارک کے ساتھ ہم آہنگ کرنا پائیدار ترقی اور عالمی مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات ہیں۔اگر ان اقدامات پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کی جانب سے حاصل کردہ اقتصادی ترقی سے مزید دور ہو جائے گا۔