خیبر پختونخوا میں جنگلات کے مالکان کی جرگہ منعقد؛ وزیر اعلیٰ کے مشیر کی شرکت

جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کی ہلاکتیں؛ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس

جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد؛ کلیدی فیصلے کیے گئے

وزیر داخلہ نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم سے اہم ملاقات کی؛ قومی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال

بلوچستان ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت صنفی بنیاد پر تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل پر ‘صوبائی میڈیا فیلوشپ پروگرام’ کا آغاز

اوپن مارکیٹ میں ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں کی قدر میں معمولی اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تجاوزات کی سرپرستی کرنے والے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے:پاسبان

کراچی 16جنوری (پی پی آئی)پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائدنے کہا ہے کہ تجاوزات کی سرپرستی کرنے والے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔ مجاہد کالونی میں مکان گرائے جا رہے ہیں۔ لوگوں کی کروڑوں کی ملکیت مٹی کا ڈھیر بن رہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ غیر قانونی عمارتیں بن رہی تھیں تو سرکار نے اس وقت کیوں نہیں روکا؟ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر اداروں کے ذمہ داران کہاں سوئے ہوئے تھے؟ حکومتی محکموں کوکیوں پتا نہیں چلا کہ غیر قانونی تعمیرات کی جا رہی ہیں؟ اس وقت بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں جو محکمہ تھا اس کے خلاف کرمنل ایف آئی درج کی جائے۔ غیر قانونی کام کرنے کی اجازت دینے اور لیز فراہم کرنے والے تمام افسران اور اداروں بشمول پولیس کے خلاف کاروائی کی جائے، انہیں سزا دیئے بغیر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائدنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرپشن کا جڑ سے صفایا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ تمام ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی نہ کی جائے۔متعلقہ اداروں نے کرپشن کر کے اور پیسہ کھا کے ان جگہوں کو مختلف لوگوں کے حوالے کر دیا،جس کے بعد پھر ان جگہوں پر تعمیرات ہوئیں۔ ان تمام لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئیے جو اس پورے عمل میں سب سے زیادہ قصوروار ہیں۔ جنہوں نے غیر قانونی اقدامات کی اور جن کی ملی بھگت سے ناجائز تجاوزات جنم لیتی ہیں۔ بھتہ مافیا اور بلڈر مافیاکی سرکوبی کی جائے اور ایسی منصوبہ بندی کی جائے کہ مستقبل میں تجاوزات قائم نہ ہوسکیں۔ ایسے سخت اصول وضع کئے جائیں کہ لوگ غیر قانونی تعمیرات یا قبضوں کا سوچتے ہوئے بھی گھبرائیں۔ پاسبان مطالبہ کرتی ہے کہ تجاوزات ضرور ختم کی جائیں لیکن لوگوں کو متبادل دیئے بغیران کی چھتوں سے محروم نا کیا جائے۔خسارہ اٹھانے والے تمام شہریوں کو معاوضے ادا کئے جائیں۔  تجاوزات مسمار کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کی دوبارہ تعمیر روکی جائے