متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلیاں بڑا چیلنج، نمٹنے کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہیں: وزیراعلیٰ سندھ

کراچی29جنوری (پی پی آئی)اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی جانب سے تیسری پاکستان کلائمنٹ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر تفصیل سے بات کی۔وزیراعلیٰ ہاؤس کے اعلامیہ کے مطابقوزیراعلیٰ سندھ نے او آئی سی سی آئی کی مینیجنگ کمیٹی کے ممبران اور کارپوریٹ سیکٹر کے نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری موجودگی اس بات کا مظہر ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، اور 1960 کی دہائی سے پاکستان میں اوسط سالانہ درجہ حرارت میں تقریباً 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے۔ اگر ہم بروقت اقدامات نہیں کرتے تو 2050 تک 1.3 سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، ہیٹ ویوز، سیلاب اور سمندری سطح میں اضافے کی وجہ سے مقامی معیشت اور ماحول پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے 2022 کے سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے 2.2 ملین ایکڑ زرعی اراضی کو تباہ کیا اور سندھ کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی زراعت کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی اور پانی کی کمی کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار میں کمی ہو رہی ہے اور فوڈ سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ساحلی کٹاؤ، پانی کی کمی اور انڈس ڈیلٹا اور مینگروو کے جنگلات میں حیاتیاتی تنوع کا نقصان بھی ماحولیاتی چیلنجز کو بڑھاتا ہے۔مراد علی شاہ نے ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے 2050 تک پاکستان کے جی ڈی پی میں 18 سے 20 فیصد تک کا ممکنہ نقصان ہو سکتا ہے، جو کہ اجتماعی کارروائی کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کے اندر ایک لچکدار اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کا موقع بھی موجود ہے، اور سندھ حکومت ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ایک اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ موسمیاتی پالیسیاں آنے والی نسلوں کی ضروریات کو پورا کریں۔وزیراعلیٰ سندھ نے نوجوانوں کو موسمیاتی مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں پائیدار مستقبل کے لیے تبدیلی کے ایجنٹس کے طور پر تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے کسانوں کی مدد کے لیے پانی کی بچت کے طریقے متعارف کروا رہے ہیں اور خشک سالی کے خلاف مزاحمت کرنے والی فصلیں بھی متعارف کروا رہے ہیں۔مراد علی شاہ نے سندھ حکومت کی جانب سے جدید زراعت اور مؤثر آبپاشی نظام کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جانے کا ذکر کیا اور انڈس ڈیلٹا کی ماحولیاتی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ساحلی تحفظ کے اقدامات اور مینگرووز کی بحالی کے منصوبوں پر عمل درآمد کی تصدیق کی اور کہا کہ سندھ کے مختلف ساحلی علاقوں میں دو ارب سے زائد مینگرووز پہلے ہی لگائے جا چکے ہیں۔انہوں نے ماحولیات کی بہتری کے لیے عالمی اداروں کے ساتھ تعاون کو اہمیت دی اور کہا کہ دنیا بھر میں ماحول کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر تعاون کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے او آئی سی سی آئی کی مینیجنگ کمیٹی اور کارپوریٹ سیکٹر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمیں ایک ساتھ مل کر مضبوط پالیسیوں کو فروغ دینا چاہیے اور کمیونٹیز کو بااختیار بنانا چاہیے۔آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں ایک پائیدار مستقبل کے لیے عجلت، عزم اور مشترکہ وژن کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔