آرٹس کونسل کراچی میں معروف شاعر، مصنف اور مصور عرفان مرتضیٰ کی کتاب “مکالمات عرفان”کی تقریبِ رونمائی

کراچی31جنوری (پی پی آئی) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ادبی کمیٹیکے زیر اہتمام معروف شاعر، مصنف اور مصور عرفان مرتضیٰ کی کتاب “مکالمات عرفان”کی تقریبِ رونمائی حسینہ معین ہال میں کی گئی۔تقریب کی صدارت معروف شاعر، محقق اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کی جبکہ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، سید فراست رضوی، ڈاکٹر رخسانہ صبا، اختر سعیدی,خلیل اللہ فاروقی اور اخلاق احمد نے اظہار خیال کیا، تقریب کی نظامت کے فرائض شکیل خان نے انجام دیے۔دوران تقریب عرفان مرتضیٰ کی مصوری پر مشتمل شو ریل پیش کی گئی۔اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عرفان مرتضیٰ مصور بہت عمدہ ہے اور یہی خاصیت ان کے اندر کی بے چینی کو لفظوں سے نہیں بلکہ رنگوں سے بیان ہوتی ہے۔لاس اینجلس میں عرفان مرتضیٰ نے اردو کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے صدارتی خطبے میں کہا کہ عرفان مرتضیٰ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ عرفان مرتضیٰ ٰامریکہ میں بھی اردو ادب کی خدمت کرتے ہیں۔وہ ایک اچھے مصور ہیں جن کی پذیرائی بین الاقوامی سطح پر ہوتی ہے،تصوراتی مکالمہ خاکہ نگاری کی ایک نئی شکل ہے۔جب اندرونی اور بیرونی اضطراب ہم آہنگ ہوتا ہے تو بہترین تخلیق سامنے آتی ہے۔چئیرمین ادبی کمیٹی (فکشن)اخلاق احمد نے کہاکہ میں عرفان مرتضیٰ کے تصوراتی مکالمے سے حیران ہوں۔تصوراتی مکالمہ ادب کی ایک صنف ہے۔رخسانہ صبا نے کہا کہ مکالمے کی سادہ تاریخ یہی ہے کہ دو افراد کے درمیان کسی خاص بات پر گفتگو ہو رہی ہو۔ جو کسی تحریر یا ادبی تصنیف کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے اور ڈرامائی صورت میں بھی مکالمات عرفان انفرادی اجتماعی سیاسی و معاشی معاملات اور علوم و فنون کے حوالے سے لامحدود موضوعات کو سمیٹتے ہوئے انسانی زندگی کا اہم ترین جز رہا ہے۔ دوران مکالمہ گفتگو کا یہ رنگ ہم آہنگی اور محبت و عقیدت کا مظہر بھی ہو سکتا ہے۔ مکالمہ عملی صداقت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ عرفان مرتضیٰ نے اپنے آپ سے بھی اس کتاب میں مکالمہ کیا ہے خلیل اللہ فاروقی نے کہا کہ ادب،شاعری یا تخلیقی ہنر کی بنیاد تصور ہے۔تصور کے تحت ہی عشق پلتا ہے۔اس کتاب میں بتیس مشاہیر کا ذکر ہے۔کتاب کو پڑھ کر قاری کو محسوس ہوگا کہ وہ ان مشاہیر سے خود کلام ہیں۔اختر سعیدی نے کہا کہ یہ کتاب حرف تہجی کے حساب سے ترتیب دی گئی ہے۔ مختلف مشاہیر سے اس کتاب میں قاری اس طرح گفتگو کریں گے کہ وہ بھول جائیں گے کہ یہ کردار محض تصوراتی ہیں۔مجھے کی دوستی پرفخر ہے – عرفان مرتضیٰ نظم کے شاعر ہیں۔ عرفان مرتضیٰ اردو زبان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ عرفان مرتضیٰ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ الفاظ سے زیادہ انسان کا لہجہ اس کے احساسات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔کراچی آکر اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔اتنے عرصے باہر رہنے کے بعد بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شہر آج بھی میرا ہے۔احمد شاہ کا شکر گزار ہو جنہوں نے ادب کے ادارے میں میری کتاب کی رونمائی کی۔اس کتاب میں شاعروں کے اسلوب کے بارے میں تصوراتی طور پر لکھا ہے۔ان لوگوں کے الفاظ سے میں نے تصوراتی مکالمہ تخلیق کیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

ضلع شکارپور میں دیرینہ دشمنی پر ترہرے قتل کی واردات،ملزمان فرار ہونے میں کامیاب

Fri Jan 31 , 2025
 شکارپور31جنوری (پی پی آئی)ضلع شکارپور میں دیرینہ دشمنی پر جمعہ کے روزڈکھن کے قریب کم سن بچی کو اس کی ماں اور بہنوئی کے ساتھ گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔یہاں پہنچنے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق دکھن کے قریب گاؤں سومرانی وڈھیہ میں مسلح افراد کے کچھ گروپ نے ایک موٹر سائیکل پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔فائرنگ […]