ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کراچی کے سب سے بڑے سائٹ صنعتی ایریا کو پانی کی فراہمی بند، صنعتوں کو تالے لگ گئے

کراچی30جنوری (پی پی آئی)کراچی  سائٹ صنعتی ایریا میں پانی کی بندش کی وجہ سے صنعتی پیداواری سرگرمیاں رک گئی ہیں نتیجتاً مزدور فارغ بیٹھے ہیں اور برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے سائٹ ایریا کی صنعتوں کو پانی کی فراہمی بند ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، ایم ڈی کے ڈبلیو ایس سی، ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ، متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتوں کو بلاتعطل پانی کی فراہمی سمیت دیگر مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں اور اگر وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں تو ہمیں آگاہ کر دیں تاکہ ہم اپنی صنعتیں کہیں اور منتقل کرنے پر غور کریں۔احمد عظیم علوی نے میڈیا کوجاری تفصیلات میں بتایا کہ گزشتہ 4 دنوں سے سائٹ ایریا میں پانی کی عدم فراہمی کے باعث فیکٹریاں بند ہیں لہٰذا صنعتکاروں کے پاس فیکٹریاں بند کرنے اور مزدوروں کو برطرف کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔انہوں نے کے ڈبلیو ایس سی کی کارروائی کے نتیجے میں زیر زمین پانی کے سپلائرز کی ہڑتال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کو چلانے کے لیے ہمیں ڈیمانڈ کے مطابق پانی کی ضرورت ہے لہٰذا  کے ڈبلیو ایس سی کو پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔ ہمارا کے ڈبلیو ایس سی اور زیر زمین پانی کے سپلائرز کے تنازعات سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے سائٹ کی صنعتوں کو پانی کی فراہمی میں خلل ڈالے بغیر تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔صدر سائٹ ایسوسی ایشن کا مزیدکہنا تھا کہ ہمیں نہ صرف ہیم ٹیکسٹائل میں حاصل کردہ برآمدی آرڈرز کے منسوخ ہونے کا خدشہ ہے بلکہ بنیادی اور اہم صنعتی ضرورت یعنی پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پیداوار جاری نہ رکھنے کے باعث بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔ایسے وقت میں جب کراچی کا صنعتی شعبہ پہلے ہی زائد پیداواری لاگت کی وجہ سے ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں مشکلات کا شکار ہے، اس معاملے میں متعلقہ اداروں کا یہ بے حسی پر مبنی رویہ ہماری پہلے سے نازک صورتحال کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔