کراچی یکم فروری (پی پی آئی)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی (ایس ای ایچ سی) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر توانائی ناصر حسین شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری توانائی مصدق خان اور چیف آپریٹنگ آفیسر (ایس ای ایچ سی) طفیل کھوسو نے شرکت سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی، جو محکمہ توانائی کی ذیلی کمپنی ہے، کے اجلاس میں شرکت کرنے والوں کو کمپنی کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔وزیراعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی کی گمبٹ ٹو، مرادی بلاک، مٹھانی، ایس ڈبلیو میانو تھری، ساون ساؤتھ، کھیواڑی ایسٹ، سیہون اور سجاول ساؤتھ بلاکس میں شراکت داری ہے۔کمپنی نے مختصر مدتی اقدامات کے تحت 8 بلاکس میں 2.5 فیصد ورکنگ انٹرسٹ کے ساتھ شراکت کی ہے، اور اس وقت 3 کنویں پیداوار دے رہے ہیں جس سے 2025 میں 11 کروڑ 30 لاکھ روپے کی آمدنی متوقع ہے مزید برآں، شاہ بندر میں گیس اور تیل کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں اور پیداوار جلد شروع کرنے کی کوشش جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے ورکنگ انٹرسٹ کو 2.5 فیصد سے بڑھا کر 10 سے 15 فیصد تک کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کمپنی کو نیا ایکسپلوریشن بلاک CCI کے فیصلے کی روشنی میں حاصل کرنے کی بھی ہدایت دی۔اجلاس میں سندھ کے ہائیڈرو کاربن ذخائر پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ لوئر انڈس بیسن میں 113083 کلومیٹر پر محیط 350 دریافتیں ہو چکی ہیں، اور تلاش میں کامیابی کا تناسب 61 فیصد ہے۔ کیرتھر بیسن میں 2.51 ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے ذخائر دریافت ہو چکے ہیں اور مزید 4.8 ٹریلین کیوبک فٹ کی دریافت متوقع ہے۔مستقبل کی حکمت عملی کے تحت ہائی رسک اور زیادہ لاگت والے فرنٹیئر ایکسپلوریشن میں مکمل شراکت سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئیوزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت تیل اور گیس کی دریافت اور پیداواری کمپنیوں کی جانب سے نجی فریقین کو 35 فیصد فروخت کے فریم ورک میں سندھ کی رائے کو شامل کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کی رضا مندی کے بغیر کوئی فروخت مجاز نہیں ہوگی۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تیل اور گیس کی پیداوار کے تازہ ترین اعداد و شمار باقاعدگی سے وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کو فراہم کیے جائیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ توانائی کو ہدایت کی کہ وفاقی وزارت پیٹرولیم کے خلاف ونڈ فال لیوی کی ادائیگی کے لئے مقدمی کی پیروی عدالت میں مؤثر انداز میں کی جائے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ گیس پیداوار میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے اور ہم تمام وفاقی پیٹرولیم کمپنیوں میں سندھ حکومت کی نمائندگی چاہتے ہیں۔ انہوں نے وزارت پیٹرولیم سے درخواست کی کہ وفاقی تیل کی کمپنیوں میں اپنے نمائندے 2 سے کم کر کے ایک کرے اور ان کی جگہ سندھ کے نمائندے رکھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی کہا کہ آئین کے آرٹیکل 172(3) کے تحت پیٹرولیم کنسیشن ایگریمنٹ (پی سی اے) یا سپلیمنٹل ایگریمنٹ کو وفاقی وزارت پیٹرولیم اور حکومت سندھ کے مشترکہ دستخط سے منظور کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں واقع گیس فیلڈ سے پیدا ہونے والی گیس کی صوبے کو فراہمی سے جو کٹوتی ہوتی ہے اس کے اعداد و شمار بروقت شیئر کیے جائیں تاکہ مقامی گیس کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی نہ ہو اور صوبے کے عوام کو محروم نہ کیا جائے۔
Next Post
عوام کو صحت، تعلیم، اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتر فراہمی یقینی بنائی جائے:، طاہر کھوکھر
Sat Feb 1 , 2025
میرپور یکم فروری (پی پی آئی)سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور انصاف کی فراہمی ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ عوام کو صحت، تعلیم، اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتر فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے اس کے ساتھ ساتھ، بے روزگار نوجوانوں کو روزگار […]
