کراچی یکم فروری (پی پی آئی)کینیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر ڈینیئل نگانڈا نے کینیا اور پاکستان کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کینیا کا مشن دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کے تمام امکانات کو کھولنے کے لیے حکومت اور نجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے مصروف عمل ہے۔دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ہمیں تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے میکنزم تیار کرنا ہوں گے تاکہ مشترکہ کاروباری نیٹ ورکنگ، سیشنز، سیمینارز، کانفرنسز، نمائشوں اور ٹریڈ فیئرز کا اہتمام کیا جا سکے۔ڈائریکٹر پریس،پبلک ریلیشنز کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی)کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ضیاء العارفین، نائب صدر کے سی سی آئی فیصل خلیل احمد، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبیسیز لائژن سب کمیٹی احسن ارشد شیخ اور کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔کینیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے کہا کہ تجارت صرف کاغذ پر نہیں بلکہ بلکہ ایک مقصد کے ساتھ کی جاتی ہے۔اس کے لیے دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے تاکہ متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے کے ذریعے تجارتی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ ہمارا مقصد ایک کاروبار دوست ماحول کی تخلیق کرنا ہے جو سامان، خدمات اور سرمایہ کاری کے ہموار تبادلے کو آسان بنائے۔ انہوں نے کہا کہ کینیا اور پاکستان کے درمیان خوشگوار اور دوستانہ تعلقات ہیں جو بنیادی طور پر مستحکم تجارتی و سرمایہ کاری پر مبنی ہیں۔ہمارے دوطرفہ تعلقات 1964 سے قائم ہیں جب کینیا نے آزادی حاصل کی تھی۔اگر آپ کینیا کا دورہ کریں تو آپ کو پاکستانیوں کی ایک قابل ذکر آبادی ملے گی جن میں سے اکثریت نے شہریت حاصل کر لی ہے جو ہمارے لوگوں کے درمیان دیرپا محبت کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا ایک اہم شہر ہے جو ملک کے تجارتی مفادات میں ایک بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ ہم کراچی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ یہ پاکستانی مارکیٹوں میں کینیا کی مصنوعات بالخصوص چائے کے لیے ایک گیٹ وے کا کام کرتا ہے۔انہوں نے کینیا کے ہائی کمیشن کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے شعبے کو وسعت دینے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ہم نے اقتصادی تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے متعدد کوششیں شروع کی ہیں تاہم ہمارے دوطرفہ تعلقات میں ابھی تک ناقابل استعمال صلاحیت موجود ہے لہٰذا ہم تجارتی وفود بھیجنے اور اعلیٰ سطح پر بزنس ٹو بزنس میٹنگز میں شرکت کرنے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔قبل ازیں کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ضیاء العارفین نے کینیا کے ڈپٹی ہائی کمیشن کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان تجارت اور برآمدات کو مزید فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ تجارتی شعبے کو وسعت دی جائے اور اس میں ویلیو ایڈڈ فوڈ مصنوعات شامل کی جائیں جیسے سبزیاں اور ترش پھل، ٹیکسٹائل مصنوعات، دواسازی، جراحی کے آلات، برقی آلات، کاسمیٹکس، چمڑے کی اشیاء، آئی ٹی مصنوعات اور مالیاتی خدمات کے شعبوں میں تجارت کو فروغ دینے سے دونوں ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کینیا سے چائے کی درآمد پر سالانہ تقریباً 657 ملین ڈالر خرچ کرتا ہے۔کینیا کی تکنیکی معاونت سے پاکستان تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے تاکہ ایسی اعلیٰ پیداوار اور بیماریوں سے بچنے والی چائے اور کافی کی اقسام کی کاشت کی جا سکیں جو اس کے موسمی اور زمینی حالات سے مطابقت رکھتی ہوں جس سے نہ صرف پاکستان کو درآمدی چائے پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ مقامی صنعت کی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے بلیو اکانومی میں مواقع تلاش کرنے کے لیے تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک دونوں ممالک کو ماہی گیری، آبی زراعت، سمندری نقل و حمل، لاجسٹکس، ثقافتی سیاحت، تیل، گیس، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے چاہیے۔ یہ شعبے فوڈ سیکیورٹی، روزگار کے مواقع اور طویل مدتی اقتصادی استحکام کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افریقا کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات بھی بڑھ رہے ہیں کیونکہ کینیا جنوبی افریقا، مڈغاسکر، تنزانیہ، مصر اور نائیجیریا کے ساتھ برآمدات کا ایک اہم مقام ہے۔مالی سال 2024 میں افریقا کے لیے پاکستان کی برآمدات 2.0 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو مجموعی برآمدات کا تقریباً 6.5 فیصد ہیں۔کینیا اور دیگر افریقی ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو مضبوط بنانے سے علاقائی تعاون کی نئی جہتیں کھلیں گی۔پاکستان کی لک افریقا پالیسی ایک اہم فریم ورک کے طور پر کام کرتی ہے تاکہ افریقی ممالک بشمول کینیا کے ساتھ تجارت کو تیز تر اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کیا جا سکے۔یہ پالیسی دونوں ممالک کے کاروباری افراد اور تاجروں کے لیے مارکیٹ کی تلاش میں مدد فراہم کرتی ہے جو اقتصادی انضمام کو مزید گہرا بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
Next Post
ای او بی آئی پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی کل سے شروع ہوگی
Sat Feb 1 , 2025
کراچی یکم فروری (پی پی آئی) ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوشن نے ماہ جنوری 2025 کی پنشن ادائیگی کیلئے بینک الفلاح کو 4 ارب 83 کروڑ 85 لاکھ روپے سے زائد کا فنڈ جاری کردیا ہے۔سابق ڈائریکٹر تعلقات عامہ اسرار ایوبی کے مطابق پیر3 فروری سے پنشن تقسیم ہوگی اورملک بھرکے4لاکھ28ہزار 858 پنشنرز مستفید ہوں گے۔
