جمعیت طلبہ عربیہ کا 54 واں یوم تاسیس کل ملک بھر میں منایا جائے گا

بنو قابل پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے معاونین کے اعزاز میں جماعت اسلامی کی تقریب پذیرائی

کراچی میں موبائل کامرس 2026 کانفرنس منعقد ،وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس شریک

بلوچستان میں ‘ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026’ متعارف

خواتین کی سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پرصدر مملکت کا پیغام

پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا، کے صدر کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس منعقد، اہم فیصلے کیے گئے

کراچی3 فروری (پی پی آئی)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے صوبائی وزراء ، مشیر، معاون خاص، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور دیگر متعلقہ افسران نے  اجلاس میں شرکت کی۔ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں پانچ اہم نکات پر گفتگو کی گئی، جن میں این ایف سی ایوارڈ کی دوسری دوسالہ نگرانی رپورٹ، ایگریکلچر انکم ٹیکس، اور سندھ کابینہ کی کارروائی کو ڈیجیٹلائز کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے این ایف سی ایوارڈ کی دوسالہ رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ساتواں این ایف سی ایوارڈ 2010 سے نافذ العمل ہے۔ وفاقی حکومت صوبوں کو ڈویژنل پول سے ان کے شیئرز کے مطابق متعلقہ فنڈز منتقل کرتی ہے۔ڈویژنل پول میں انکم ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سروسز پر جی ایس ٹی شامل نہیں)، فیڈرل ایکسائز (سوائے قدرتی گیس پر ای ڈی ٹیکس) اور کسٹمز (سوائے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ ٹیکس) شامل ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے مزید بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ کے ڈویڑنل پول سے پنجاب کو 51.74 فیصد شیئر ملتا ہے، سندھ کو 24.55 فیصد حصہ ملتا ہے، خیبر پختونخواہ کو 14.62 فیصد اور بلوچستان کو 9.09 فیصد شیئر ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو 2022 میں 498.067 بلین روپے ملے تھے، اور گزشتہ تین سالوں (2021-2022، 2022-2023  اور 2023-2024) میں سندھ کو 3002.43 بلین روپے ملے، جو کہ 77.16 بلین روپے کم تھے۔ تاہم، این ایف سی ایوارڈ کے گزشتہ تین سالوں کے بقایا جات 77.16 بلین روپے اب مکمل طور پر ادا کر دیے گئے ہیں۔