کراچی3 فروری (پی پی آئی)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے صوبائی وزراء ، مشیر، معاون خاص، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور دیگر متعلقہ افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں پانچ اہم نکات پر گفتگو کی گئی، جن میں این ایف سی ایوارڈ کی دوسری دوسالہ نگرانی رپورٹ، ایگریکلچر انکم ٹیکس، اور سندھ کابینہ کی کارروائی کو ڈیجیٹلائز کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے این ایف سی ایوارڈ کی دوسالہ رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ساتواں این ایف سی ایوارڈ 2010 سے نافذ العمل ہے۔ وفاقی حکومت صوبوں کو ڈویژنل پول سے ان کے شیئرز کے مطابق متعلقہ فنڈز منتقل کرتی ہے۔ڈویژنل پول میں انکم ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سروسز پر جی ایس ٹی شامل نہیں)، فیڈرل ایکسائز (سوائے قدرتی گیس پر ای ڈی ٹیکس) اور کسٹمز (سوائے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ ٹیکس) شامل ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے مزید بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ کے ڈویڑنل پول سے پنجاب کو 51.74 فیصد شیئر ملتا ہے، سندھ کو 24.55 فیصد حصہ ملتا ہے، خیبر پختونخواہ کو 14.62 فیصد اور بلوچستان کو 9.09 فیصد شیئر ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو 2022 میں 498.067 بلین روپے ملے تھے، اور گزشتہ تین سالوں (2021-2022، 2022-2023 اور 2023-2024) میں سندھ کو 3002.43 بلین روپے ملے، جو کہ 77.16 بلین روپے کم تھے۔ تاہم، این ایف سی ایوارڈ کے گزشتہ تین سالوں کے بقایا جات 77.16 بلین روپے اب مکمل طور پر ادا کر دیے گئے ہیں۔
Next Post
بلوچستان میں لیویز اہلکاروں کے ٹارگٹ کلنگ کی تحقیقات کے لیے ٹریبونل قائم
Mon Feb 3 , 2025
کوئٹہ، 3 فروری (پی پی آئی): بلوچستان حکومت نے 1 فروری 2024 کو چار (04) لیویز اہلکاروں کے ٹارگٹ کلنگ کے سانحے کی تحقیقات کے لیے “فیکٹ فائنڈنگ انکوائری” کرنے کے لیے ایک ‘ٹریبونل آف انکوائری’ تشکیل دے دیا ہے، جس کی سربراہی کمشنر کوئٹہ ڈویژن کریں گے۔بلوچستان کے محکمہ […]
